سی ڈی اے نے تنخوائوں اور چائے پانی کے لوازمات ادا کرنے کے لئے 22ارب کے پلاٹ نیلام کر ڈالے

پلاٹوں میں 9پلاٹ کمرشل اور 15 رہائشی پلاٹ شامل ، پلاٹوں کی آمدنی سے سابق نگراں چیئرمین نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے میٹرو پولیٹین کے اخراجات بھی دھڑلے سے کئے ،سابق چیئرمین نے سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر میں موجود اپنے دفتر کی تزئین و آرائش پر 70لاکھ روپے خرچ کر ڈالے ، پلاٹوں کی رقم سے گزشتہ سال کے دوران چیئرمین سی ڈی اے ،ممبر ایڈمن،ممبر انجیئنرنگ ،ممبر فنانس ،ممبر پلاننگ اور ممبر اسٹیٹ کے خصوصی اخراجات جن میں ریفریشمنٹ،پیٹرول اور ملازمین شامل ہیں کی مد میں 4ارب روپے خرچ کئے

جمعرات اپریل 22:54

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) سی ڈی اے نے تنخوائوں اور چائے پانی کے لوازمات ادا کرنے کے لئے گزشتہ سال کے دوران 22ارب کے پلاٹ نیلام کر ڈالے فروخت ہونے والے پلاٹوں میں 9پلاٹ کمرشل اور 15 رہائشی پلاٹ شامل ہیں جبکہ سی ڈی اے کے ان پلاٹوں کی آمدنی سے سابق نگراں چیئرمین نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے میٹرو پولیٹین کے اخراجات بھی دھڑلے سے کئے ،سابق چیئرمین نے سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر میں موجود اپنے دفتر کی تہ و آرائش پر 70لاکھ روپے خرچ کر ڈالے جبکہ مذکورہ پلاٹوں کی رقم سے گزشتہ سال کے دوران چیئرمین سی ڈی اے ،ممبر ایڈمن،ممبر انجیئنرنگ ،ممبر فنانس ،ممبر پلاننگ اور ممبر اسٹیٹ کے خصوصی اخراجات جن میں ریفریشمنٹ،،پیٹرول اور ملازمین شامل ہیں کی مد میں 4ارب روپے خرچ کئے گئے گزشتہ سال کے دوران نا تجربہ کار انتظامیہ کی عدم توجعی اور دفاتر میں کام نہ ہونے کی وجہ سے سی ڈی اے کے خودمختیار ادارے نے نفع کمانے کے بجائے نہ صرف اسلام آباد کے پلاٹوں کا صفایا کر کے اربوں روپے ضائع کئے بلکہ کمرشل و رہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ بند کرنے اور بل بورڈز سمیت دیگر شعبوں کی ریکوریوں کے بجائے مک مکاکی مد میں 9ارب روپے کا نقصان اٹھایا،قابل ذکر امر یہ بھی ہے کہ سی ڈی اے جو 10سال قبل وفاقی حکومتوں کو قرض فراہم کرتا تھا اور سیاسی حکومتوں کے آتے ہی نہ صرف خود قرضدار بن گیا بلکہ تنخواہوں کے لئے اسلام آباد کے مہنگے ترین پلاٹوں کی نیلامی اس ادارے کا معمول بن چکا ہے رپورٹ کے مطابق اس وقت سی ڈی اے کے 18ہزار کم و بیش ملازمین کے لئے سالانہ تنخوائوں کا بجٹ7ارب سے زیادہ بنتا ہے لیکن اس کے افسران کی عیاشیوں اور بیگمات کی فرمائشوں کی مد میں اس ادارے کی 9ارب کی مذید پھکی دی جاتی ہے کیونکہ ادارے کی مہنگی ترین گاڑیاں افسران کی بیگمات اور بچے بھی بمعہ پیٹرول اور ڈرائیور استعمال کرتے ہیںسی ڈی اے میں گزشتہ سال کے دوران سابق چیئرمین انصر عزیزپر 1ارب 22کروڑ خرچ کئے جا چکے ہیں جبکہ ممبر پلاننگ نے صرف چائے پانی اور مہمانوں کی آئوبھگت پر16کروڑ روپے خرچ کر ڈالے ہیں اسد کیانی چیئرمین سی ڈی اے کے بعد سی ڈی اے کے مہنگے ترین ممبر ثابت ہوئے ہیں تیسرے نمبر پر ممبر ایڈمن ذاتی اخراجات کرنے والوں میں شامل ہیں ذرائع نے بتایا کہ سی ڈی اے میں گزشتہ سال کے دوران ترقیاتی کاموں اور تنخوائوں کی مد میں ٹوٹل 12ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں اس طرح 22ارب روپے میں سے 10ارب روپے اپنی شاہ خرچیوں پر اڑا لئے ہیں جبکہ یہ بائس ارب روپے اسلام آباد کے مہنگے ترین سیکٹرز F-11/2کے ایک کنال پر واقع 5 پلاٹ D-12/1,3کے پانچ پلاٹG-10/2میں کنال سے زیادہ مربع پر واقع پانچ پلاٹ جبکہ ان ہی سیکٹروں میں 9کمرشل پلاٹوں کی نیلامی پر حاصل کئے گئے تھے سی ڈی اے اگر چہ خود مختیار ادارہ ہے اور اگر اس ادارے کی انتظامیہ کرپشن سے ہٹ کر اپنے وسائل استعمال کرنے کی کوشش کرے تو اسلام آباد کے کمرشل پلازوں پر پارکنگ کی مد میں سالانہ اربوں روپے کی سرمائیہ کاری کی جا سکتی ہے ادھر دیکھنے میں آیا ہے کہ سی ڈی اے میں آمدنی کے شعبوں میں چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے جہاںاسلام آباد کے بڑے بڑے مراکز میں لگائے گئے ہوڈنگ اور بل بورڈز پر سالانہ 4ارب سے زیادہ کی آمدن کی جا سکتی ہے وہاں افسران و عملہ کرائے وصول کرنے کے بجائے ان سے ماہانہ قلیل رقوم لے کر سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا چگمہ دے دیتے ہیں ’’روزنامہ جناح ‘‘نے سی ڈی اے کے ترجمان ملک سلیم سے اس حوالے سے موقف پوچھا تو انہوں نے کہا کہ افسران پر جو رقم خرچ ہوئی یا خرچ کی جا رہی ہے اس حوالے سے میرے پاس کوئی فگر نہیں البتہ اربوں روپے کی نیلامی کی مد میں جو سرمائیہ کاری ہوئی اس میں سے تنخوائیں ادا کی گئے اس کے علاوہ اسلام آباد کے گھروں کی مینٹی نینس ،ترقیاتی کام روڈوں کی رپیئرنگ وغیرہ اور اپگریڈیشن کا کام اسی رقم کی مد میں ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے پلاٹوں کی نیلامی کرنا پڑتی ہے ۔