سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کی باتیں من گھڑت پروپیگنڈا کے سوا کچھ نہیں، مولانا فضل الرحمن خلیل

ولی عہد کے سیکولر ہونے کی رپورٹس بھی حقیقت کے منافی ہیں۔ وہ حافظ قرآن اور مسلمانوں کے مفادات کیلئے کام کرنے والے شخص ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب ایک جان ایک دل ہیں سعودیہ نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا اور افواج پاکستان کو اپنے دفاع کے لئے چنا، سربراہ انصار الامہ پاکستان اپنے دفاع کے لئے ہمیشہ اپنوں کو بلایا جاتا ہے نہ کہ غیروں کو یہود و نصاری کی سازش سے اس خلیج جو کبھی امن کا گہوارہ ہوتا تھا یہ جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ جس کو فوری طور پر بند ہو نا چاہئے ۔ وطن عزیز میں دین جماعتوں اور دینی ووٹ سے بڑی طاقت کس کے پاس نہیں۔ دینی جماعتوں میں اتحا نہ ہونا سسٹم کی ناکامی کی بڑی وجہ ہے ۔ ہمیں بطور قوم اپنی سیاست اور اپنا ایجنڈہ اپنانا ہو گا، آن لائن کو خصوصی انٹرویو

جمعرات اپریل 22:54

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) انصا رالامہ پاکستان کے سربراہ مولانافضل الرحمن خلیل نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کی باتیں من گھڑت پروپیگنڈا کے سوا کچھ نہیں۔ ولی عہد کے سیکولر ہونے کی رپورٹس بھی حقیقت کے منافی ہیں۔ وہ حافظ قرآن اور مسلمانوں کے مفادات کیلئے کام کرنے والے شخص ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب ایک جان ایک دل ہیں سعودیہ نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا اور افواج پاکستان کو اپنے دفاع کے لئے چنا۔

اپنے دفاع کے لئے ہمیشہ اپنوں کو بلایا جاتا ہے نہ کہ غیروں کو یہود و نصاری کی سازش سے اس خلیج جو کبھی امن کا گہوارہ ہوتا تھا یہ جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ جس کو فوری طور پر بند ہو نا چاہئے ۔ وطن عزیز میں دین جماعتوں اور دینی ووٹ سے بڑی طاقت کس کے پاس نہیں۔

(جاری ہے)

دینی جماعتوں میں اتحا نہ ہونا سسٹم کی ناکامی کی بڑی وجہ ہے ۔ ہمیں بطور قوم اپنی سیاست اور اپنا ایجنڈہ اپنانا ہو گا۔

حکمران جماعتیں قومی ایشوز کو چھوڑ کر ذاتی مفادات پر توجہ مرکوز کیے ہوتے ہیں یہاں قوم کی قسمت کا فیصلہ کرنے والوں کی اہلیت پیسہ گردانی جاتی ہے۔ دین اور اسلام کی تشریح کیلئے سب سے بہترین فورم علماء کا بورڈ ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز آن لائن کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کہا مولانافضل الرحمن خلیل کا کہنا تھا کہ مادر پدر آزاد جمہوریت خرابیاں لاتی ہے۔

جہاں ایک چپڑاسی کے لئے میٹرک پاس ہونا لازمی اور قانون ساز اسمبلی کے لئے ان پڑ ھ بھی ہو سکتاہو اس سے بہتری کی امید نہیں رکھی جا سکتی گزشتہ کافی عرصے سے عدلیہ کے خلاف انگلیاں اٹھ رہی ہیں جو کہ کسی طور پر درست نہیں ۔ یہ وہ واحد ارادہ ہے جس سے عوام کی امید وابستہ ہیں ہم الزام تراشی کے ذریعے اپنے اداروں کو کمزور کر کے کس طور ملک و قوم کا بھلا نہیں کررہے ہمارے ملک میٖںآج بھی لڑائو اور حکومت کرو کے فارمولے کے تحت حکومتیں آ رہی ہیں دینی جماعتوں سے زیادہ ووٹ بنک کس کے پاس ہیں اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جب بھی دینی جماعتیں اگھٹی ہوئیں انہوں نے عوام کو مایوس نہیں کیا۔

انصارالامہ کے پلیٹفارم سے ہم اچھے لوگوں کی سپورٹ کرتے رہے ہیں اور کرتے رہینگے ۔ ایک ایسا ملک جس کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی ہو جس کی قرار داد مقاصد اسلامی، جس کا آئین اسلامی ، اس میں اسلام اور دین کی تشریح کی اجازت صرف علماء کے مقرر کردہ بورڈ کو ہونی چاہئے۔ ہم خطے میں شیعہسنی کی لڑائی کے خلاف ہیں اسلام اگر خواتین کو تجارت کی اجازت دے سکتا ہے تو ڈرائیونگ کی کیوں نہیںصرف حجاب کی شرط طے ہیں کہ خواتین ہر دو صورت میں حجاب کی پابند رہیں۔

سعودی عرب کے حوالے سے پاکستانی میڈیا میں گزشتہ کافی عرصے سے من گھڑت پروپیگنڈہ کیا جارہاہے۔ سعودی عرب میں بغاوت کے حوالے سے تمام خبریںجھوٹی ہیں۔ سعودی ولی عہد ایک حافظ قرآن اور مسلماون کے مفادات کا تحفظ کرنے والے شخص ہیں حالیہ امریکہ و دیگر یورپین ممالک کے حملوں میں یہود انصاری کی سازش شامل ہے۔ وطن عزیز میںافغانستان کی خیر خواہی کاراگ مدینے والے سیاستدان قوم پرست نہیں بلکہ مفادات پرست ہیں۔

فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں ضم سے امن ممکن ہے۔ ہم فاٹا کے عوام کیلئے ان تمام حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں جو اسلام آباد ، کراچی ، پشاور کے عوام کو مل رہے ہیں منظور پشتین کی طرف سے یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے کے نعرے کے پیچھے انڈین وردی ہے۔ منظور پشتین کو پتہ ہونا چاہے کہ آج کراچی اسلام آباد پشاور اور ملک کے دیگر شہروں میں جو امن قائم ہوا ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔

منظور پشتین اس وقت کہا ں تھا جب اسلام آباد تک بھتہ کی پرچیاں ملتی تھیں ہم سجھتے ہیں کہ اس طرح نعروں سے پاکستان کا دفاع کمزور ہو رہا ہے اچکزئی جیسے ضمیر فروش جو اپنے آپ کو پختون کا ترجمان سمجھتے ہیں در حقیقت پختون عوام کے مسترد کردہ ہیں ایک سوال کے جو اب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دفاع اورترقی کیلئے آئندہ ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کریں گے ۔