حافظ آباد،شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے باردانہ کے اجراء کے اہل زمینداروں اور کسانوں کا انتخاب عمل میں لایا جا چکا ہے، اللہ دتہ وڑائچ

آج سے پاسکو 7,85,000بوری گندم کی خریداری کے لیے ان کامیاب کسانوں میں باردانہ کی تقسیم شروع کر دے گا ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو حافظ آباد

جمعرات اپریل 22:38

حافظ آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو حافظ آباد اللہ دتہ وڑائچ نے کہا ہے کہ شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے باردانہ کے اجراء کے اہل زمینداروں اور کسانوں کا انتخاب عمل میں لایا جا چکا ہے اور آج سے پاسکو 7,85,000بوری گندم کی خریداری کے لیے ان کامیاب کسانوں میں باردانہ کی تقسیم شروع کر دے گا ۔انہوں نے کہا کہ تمام گندم خریداری مراکز پر کسانوں کی سہولت اور راہنمائی کے لیے ممکنہ اقدامات کئے گئے ہیں اور گندم لیکر آنے والوں سے پاسکو کے عملہ کی بد سلوکی اور من مرضی کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی اولین ترجیح چھوٹے زمینداروں اور کسانوں کے معاشی حقوق کا تحفظ اور انکو محنت کا بھر پور صلہ دینا ہے جسمیں کوتاہی برتنے والوں کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔

(جاری ہے)

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ضلعی زرعی ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جسمیں متعلقہ محکموں کیافسران کھاد ڈیلرز، پاسکو کا نمائیندہ افسر اور کمیٹی کے غیر سرکاری اراکین نے شرکت کی ۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے کہا کہ حکومت پنجاب کے کسان پیکج کے تحت محکمہ زراعت ضلع بھر کے 9119کسانوں کو رجسٹرڈ کر چکا ہے جن میں سے 8811کسانوں کو 539.252ملین کے بلا سود قرضوں کی فراہمی بھی عمل میں لائی جا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کی سہولت اور آسانی کے لیے حکومت نے قرضوں کی ادائیگی ایزی پیشہ کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عمل درآمد کے لیے 8000کسانوں میں موبائل فون بھی تقسیم کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مذید کہا کہ زیادہ سے زیادہ کاشت کاروں کا بلا سود قرضوں کی فراہمی کے لیے زرعی رقبہ کی حد بڑھا کر 50ایکڑ تک بھی کر دی گئی ہے ۔اجلاس میں محکمہ زراعت ،لائیو سٹاک ،واٹر مینجمنٹ اور اریگیشن ڈپارٹمنٹس کے افسران نے اپنے محکموں کی کارکردگی کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔اے ڈی سی ریونیو نے بالخصوص اریگیشن ڈپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ ڈرینج ڈویژن کے ذریعے ضلع کی تمام ڈرینوں اور برساتی نالوں کی صفائی کرائی جائے تاکہ سیلاب پانی کے فوری نکاس میں کوئی روکاوٹ نہ آئے۔

انہوں نے واضح کیا کہ برساتی نالوں اور ڈرینوں کی بہتر صفائی کے ذریعے ہی سیلاب کا خطرہ بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے دھان کی کاشت کے آغاز کے پیش نظر نہری پانی چوری کے لیے پیشگی اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی کہ تمام کسانوں کو انکے حصہ کا پانی بآسانی دستیاب ہو سکے۔