حکومت کسی بھی عوامی شعبے کے مسائل کے حل پرتوجہ نہیں دے رہی،جما عت اسلامی

تعلیم وصحت سمیت دیگر شعبے تباہ ہوئے، عوام کی فلاح وبہبود مسائل پریشانیوں کے حل کیلئے کوئی منصوبہ نہیں ،صوبائی بیان

جمعرات اپریل 22:44

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) جما عت اسلامی کے صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کسی بھی عوامی شعبے کے مسائل کے حل پرتوجہ نہیں دے رہی جس کی وجہ سے تعلیم وصحت سمیت دیگر شعبے بھی تباہ ہوئے عوام کی فلاح وبہبود مسائل پریشانیوں کے حل کیلئے کوئی منصوبہ نہیں ،مسائل کے حل اور پریشانیوں سے نجات کیلئے اسمبلی قانون سازی نہیں کر رہی ،اشیاء ضرورت ، پٹرولیم مصنوعات ،تعلیمی اداروں کی فیسزکے بعد شناختی کارڈکی فیسوں میں اضافہ عوام کو لوٹنے کی سازش ہیں عوام صرف حکمرانوں کی عیاشیوں وفضول خرچیوں کیلئے ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔

تعلیم کی بہتری کیلئے امتحانات میں نقل کاخاتمہ ضروری ہے۔۔جماعت اسلامی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکمرانوں ،منتخب نمائندوں وسیاسی پارٹیوں کی ناقص کاکردگی ،راتوں رات ذاتی مفادات کیلئے سیاسی وابستگی تبدیل کرنے اورہر سطح پر کرپشن وپیسہ کے استعمال کی وجہ سے سیاست بدنام ہوگئی ہے ۔

(جاری ہے)

عدلیہ احتساب کے عمل کو تیز اور جلد مکمل کرے اور سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والوں سے پریشان نہ ہو ۔

عوام لٹیروں کا جلد از جلد احتساب چاہتے ہیں ۔ سیکولر اور لبرل ازم کے نام پر لادینیت اور اباحیت پھیلانے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے دینی قوتوں کو متحد ہوکر ایک دوسرے کیساتھ مخلصانہ جدوجہد کرنی چاہیے مسلم لیگ کو دینی سمجھ کر ووٹ دینے والے آج پریشان ہیں کہ آج وہی جماعت ملک میں اسلام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے حتیٰ کہ ختم نبوت کے قانون کو بدلنے کی جسارت کی گئی اور ابھی تک راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ بھی سامنے نہیں لائی گئی ۔

سیکولر حکمران آئین کی ا سلامی دفعات کو بھی بدلنے یا ختم کر نے کا ارادہ رکھتے ہیں ، دستور پاکستان کو بچانے کے لیے بھی دینی قوتوں کا متحد ہونا انتہائی ناگزیر ہے ۔ اسلامی آئین کے تحفظ ، بالادستی اور آزاد عدلیہ پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوسکتا ۔ 2018 ء کے انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ سیاست کو ملاوٹ سے پا ک کرنا ضروری ہے تاکہ عوا م کو دودھ ، ادویات ، علاج اور تعلیم خالص مل سکے ۔

جب تک کرپشن اور کرپٹ نظام ختم نہیں ہوتا ، معیشت درست ہو گی نہ عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ سیاست میں تلخی ، توہین آمیز رویے اور لاابالی پن سب کے لیے نقصان دہ ہے ۔ یہ وقت ہے کہ تمام سیاسی، دینی ، جمہوری جماعتیں پوری سنجیدگی سے آئین کے مطابق بروقت اور بہتر ماحول میں عام انتخابات کو یقینی بنائیں ۔