ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں انٹر یونیورسٹی اردو انگریزی مباحثے

جمعرات اپریل 22:45

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) ڈائو یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر نے کہا ہے کہ مباحثوں اور تقریری مقابلوں کی روایت گذشتہ دو عشروں کے دوران کمزور ہونے کے باوجود ڈائو یونیورسٹی میں مباحثے کے انعقاد نے ثابت کردیا ہے کہ ہمارے طلباء باصلاحیت ہیں، قبل ازیں ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے اشتراک سے ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ہونے والے اردو مباحثے کے شرکاء نے قرارداد ’’افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر‘‘ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

جمعرات کو جاری اعلامیہ کے مطابق ڈائو یونیورسٹی کے آراگ آڈیٹوریم میں ہونے والے مباحثے میں طلبہ و طالبات نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مباحثے کے منصفین ڈاکٹر اقبال پیرزادہ، پروفیسر فوزیہ امتیاز، ریاض احمد، محمد حنیف، عدنان اختر، پروگرام آرگنائزر پروفیسر مکرم علی اور ڈاکٹر لبنٰی ریاض نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسرور نے کہا کہ ہمارا قومی المیہ یہ رہا ہے کہ مباحثوں اور مقابلوں میں آنے والے فراد محض سامعین تصور کرکے آتے ہیں، اگر سامعین سیکھنے کے جذبے کے تحت مباحثوں میں شریک ہوں گے تو کل پاکستان کو بڑے مقرر ایسے ہی مباحثوں سے ملیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کی ترقی کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی خصوصی دلچسپی سے طلباء میں تعلیم اور ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا جذبہ بڑھ رہا ہے۔ مباحثے کے آخر میں مہمانِ خصوصی پروفیسر محمد مسرور نے بالترتیب اول، دوم اور سوم آنے والے انشا جاوید، انوشہ ندیم اور شہیرا اقبال کو انعامات دیئے۔