ہمیں یقین ہے خواجہ آصف کی نااہلی کا فیصلہ خالصتا میریٹ کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار

جو پارٹیوں کے رہنما اور اراکین اسمبلی وفاداریاں تبدیل کرکے دوسری سیاسی جماعتوں میں جارہے ہیں ان کے بارے میں عوام کو فیصلہ کرنا ہے ایم کیو ایم ہمیشہ سے عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63میں واضح موثرترمیم کی ضرورت ہے، میڈیا سے گفتگو

جمعرات اپریل 23:06

ہمیں یقین ہے خواجہ آصف کی نااہلی کا فیصلہ خالصتا میریٹ کو سامنے رکھ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) ایم کیو ایم پاکستان پی آئی بی گروپ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ خواجہ آصف کی نااہلی کا فیصلہ خالصتا میریٹ کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے ایم کیو ایم ہمیشہ سے عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63میں واضح موثرترمیم کی ضرورت ہے، جو پارٹیوں کے رہنما اور اراکین اسمبلی وفاداریاں تبدیل کرکے دوسری سیاسی جماعتوں میں جارہے ہیں ان کے بارے میں عوام کو فیصلہ کرنا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو مقامی ہوٹل میں شیڈو بجٹ پیش کئے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اس بات کو پورا یقین ہے کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کا فیصلہ خالصتا میریٹ پر کیا جانے والا فیصلہ ہے ، ایم کیو ایم نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا ہے، اور عدالتوں کا احترام اس ہی وقت ہوتا ہے جب اس کے فیصلوں کا احترام کیا جائے، انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62,63 کے حوالے سے سیاسی برادری کو دیکھنا ہوگا ، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ بات ظاہر ہے کہ جس کے خلاف بھی فیصلہ آتا ہے وہ اسے ماننے سے انکار کرتا ہے۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے مسلم لیگ ن پر بہت زور دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 63اور 63کے حوالے سے ترمیم کئے جانے کی ضرورت ہے لیکن مسلم لیگ ن کی قیادت نے ہماری بات نہیں مانی، اور آج مسلم لیگ ن پر ہی اس کا اطلاق ہوا ہے۔۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ جو لوگ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن ، کو چھوڑ کر اپنی وفاداریاں تبدیل کرکے پی ٹی آئی اور دوسری جماعتوں میں جارہے ہیں ، اس ہی طرح جو لوگ ایم کیو ایم کو چھوڑ کر پی ایس پی میں جارہے ہیں ان کے بارے میں عوام کو فیصلہ کرنا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ آئندہ کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم کا ووٹ تقسیم ہوگا۔ کیوں کہ ایم کیو ایم کا ووٹر بہت سمجھدار ہے۔