حکمرانوں اپنا قبلہ درست کر لو حیدرآباد کے لوگوں کو انسان سمجھو، حیدرآباد بھی سندھ کا حصہ اس کو اسکے حقوقِ دو، مصطفی کمال

اگر میرے پاس 50 ایم پی ایز ہو اور وہ اسمبلی میں بیٹھے جائیں تو حکمران حقوق دینے پر مجبور ہو جائیں گے، حیدرآباد روانیگ سے قبل میڈیا سے گفتگو

جمعرات اپریل 23:08

حکمرانوں اپنا قبلہ درست کر لو حیدرآباد کے لوگوں کو انسان سمجھو، حیدرآباد ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال نے کہاکہ آج حیدرآباد کی احتجاجی ریلی کا مقصد وہی ہے جس کے لئے ہم نے پارٹی کی بنیاد رکھی تھی جو کہ عوام کی خدمت اور عوام کے بنیادی مسائل کا حل ہے اس لئے ہی ہم نے ایک سال پہلے 18دن دھرنا دیا جس میں ہم دن رات وہاں بیٹھے رہے اور جب عوامی مسائل کے حل کیلئے پاک سر زمین پارٹی کی جانب سے پیش کیے جانے والے مطالبات نہ مانے گئے تو ہم نے احتجاجی ریلی نکالی لیکن حکومت نے مطالبات ماننے کے بجائے ہم پر تشدد کیا اور مجھے اور میرے ساتھیوں کو نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ ریلی میں موجود خواتین اور بچوں پر بھی آنسو گیس کی شیلنگ اور ڈنڈے برسائے گئے ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد روانہ ہونے سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا آج بھی لوڈ شیڈنگ جاری ہے ہم نے اس سلسلے میں کے الیکٹرک کے دفتر پر دھرنا دیا جس کے نتیجے میں وزیراعظم نے نوٹس لیا اور انہوں نے یہاں آکر کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کی انتظامیہ سے میٹنگ کر کے اس مصنوعی بحران کو ختم کرنے کی کوشش کی اگر پھر بھی یہ بحران ختم نہ ہوا تو ہم اس مسئلے کو حل کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھینگے انہوں نے کہا لوگوں کے بنیادی حقوق کے حل کئے ہی آج اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم حیدرآباد کے لوگوں کے لیے آواز اٹھانے جارہے ہیں حیدرآباد شہر کا برا حال ہے سڑکیں اور سیورج کا نظام تباہ ہے ہماری پاس عوامی مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھانے کے علاؤہ کوء اور راستہ نہیں ہے حیدرآباد شہر کے لئے ایک یونیورسٹی کا اعلان کیا گیا اور وہ بھی صرف اعلان ہی رہا انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک ایم پی اے نے مثال قائم کی ہے جس نے کر دکھایا کہ کس طرح لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھائی جاسکتی ہے کل بجٹ آرہا ہے جس میں کراچی کی آبادی 70لاکھ کم کردی گء ہے اس کے لئے اب فنڈز بھی کم ابادی کے لحاظ سے ہی بجٹ میں رکھے جائینگے جو کہ لوگوں کے مسائل میں اور اضافہ کا باعث بنے گا اس مسئلہ پر وزیراعلی کو آواز اٹھانا چاہئے تھی لیکن انہوں آواز اٹھانے کی بجائے نتائج کو دستخط کر کے تسلیم کر کے آگئے کیونکہ آبادی کراچی اور حیدرآباد کی آبادی کم کی گئی ہے جبکہ 2013میں پی پی پی کی طرف سے تاج حیدر صاحب نے نادرا کا ریکارڈ جمع کرایا جس کے مطابق کراچی کی آبادی اس وقت دو کروڑ پندرہ لاکھ تھی تو اب ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کیسے ہوگئی یہ بہت بڑی سازش ہے اگر کراچی کو وسائل ابادی کے لحاظ سے نہیں ملینگے تو کراچی ترقی نہیں کریگا بکہ گیا پاکستان کی ترقی کراچی کی گبول ترقی سے وابستہ ہے انہوں نے کہا کراچی کی آبادی مردم شماری میں کم کرنے کے خلاف چیف جسٹس صاحب سو موٹو ایکشن لیں ۔