کراچی ہاکی ایسوسی ایشن نے حیدر حسین کے خلاف عدم اعتماد کو غیر قانونی قرار دیدیا۔خالد سجاد کھوکھر بے اختیار صدر ہیں، ڈاکٹر جنید علی شاہ

پاکستان ہاکی فیڈریشن کراچی میں نفرت کا بیچ بو رہی ہے، عدم اعتماد قانون کے مطابق ہو تو کوئی اعتراض نہیں، صدر کراچی ہاکی ایسوسی ایشن

جمعرات اپریل 23:12

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) کراچی ہاکی ایسوسی ایشن نے حیدر حسین کے خلاف عدم اعتماد کو غیر قانونی قرار دیدیا۔خالد سجاد کھوکھر بے اختیار صدر ہیں۔۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کراچی میں نفرت کا بیچ بو رہی ہے ایسا نہ ہو کہ گو کھوکھر۔ گو شہباز کے نعرہ سب کچھ بہا کر لے جائیں۔تفصیلات کے مطابق کے ایچ اے اسپورٹس کمپلیکس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر جنید علی شاہ نے اپنے سیکریٹری حیدر حسین پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

اسکروٹنی اور عدم اعتماد قانون کے مطابق ہو تو کوئی اعتراض نہیں کرسکتا۔ حیدر حسین شبانہ روز شہر میں ہاکی کلچر کو پروان چڑھانے کے لیئے اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کررہے ہیں۔مجھ سمیت پوری ایسوسی ایشن حیدر حسین پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔

(جاری ہے)

پی ایچ ایف اور کے ایچ اے کے قانون کے مطابق اسکروٹنی اور انٹرڈسٹرکٹ ٹورنامنٹ کرانے کا اختیار کے ایچ اے کے پاس ہے۔

فیڈریشن کو اسکروٹنی کروانہ ہے تو کے ایچ اے کے گراونڈ میں کرائے۔فیڈریشن سے محاذ آرائی نہیں چاہتے تاہم غیر قانونی اسکروٹنی کے حوالے سے قانونی نوٹس بھیجوادیا ہے۔منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں جو بھی کامیاب ہوگا اسے تسلیم کریں گے۔پی ایچ ایف کے صدر خالد سجاد کھوکھر نے ایک نجی ٹی وی پر اولمپیئن حنیف خان کو کراچی میں اسکروٹنی اور انٹر ڈسٹرکٹ ٹورنامنٹ کرانے کے لیئے آبزرور نامزد کرنے کا اعلان کیا لیکن سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر محمد رمضان جمالی نے ان کی ہدایت ماننے سے انکار کردیا جس کے بعد یہ تاثر عام ہے کہ سجاد کھوکھر ایک بے اختیار صدر ہیں۔

سیکریٹری کی حیثیت سے پی ایچ ایف کے سیکریٹری شہباز احمد سینئر اور خالد سجاد کھوکھر سے رابطے میں رہنا حیدر حسین کی ذمہ داری ہے۔اس موقع پر کے ایچ اے کے چیئر مین گلفراز خان نے اولمپیئن تصدق حسین ایک تعصبی شخص ہے۔پی ایچ ایف ان کے ذریعے اسکروٹنی کروا کر کراچی میں نفرت کا بیچ بورہی ہے۔سابقہ قیادت نے کے ایچ اے کے میدان کو ہاکی کے بجائے مال کمانے کے لیئے استعمال کیا۔

نام نہاد تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے پیچھے۔۔کراچی ہاکی کے دشمن ہیں ایسا نہ یو کہ گو کھوکھرگو۔ گو شہباز گو کا نعرہ لگ جائے اور چند ہفتوں میں یہ نعرہ سب کچھ بہا کر لے جائے۔کے ایچ اے کے نائب صدر ڈاکٹر ایس اے ماجد کا کہناتھا کہ عدم اعتماد کا طریقہ غیر قانونی ہے۔جنھیں عدم اعتماد کا حق نہیں وہ عدم اعتماد کیسے کرسکتے ہیں۔ 11 ووٹنگ رائٹس کلبز کے سیکریٹریز کے ہمراہ پریس کانفرنس والوں نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ الفیصل کلب۔

بلدیہ ٹاون کلب اور نواب الیون کے سیکریٹریز 2017 میں ہی تبدیل ہوچکے ہیں ۔جس کی اطلاع ہاکی فیڈریشن اور میڈیا کو دے دی گئی تھی ۔ کراچی ہاکی کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے عناصر پر مشتمل گروپ کے باقی 8 کلبز وہی ہیں جنھیں 2016 کے ضمنی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔پریس کانفرنس کے موقع پر کے ایچ اے کے سینئر جوائنٹ سیکریٹری جاوید اقبال۔

جوائنٹ سیکریٹری عظیم خان۔ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نسیم حسین۔محسن علی خان۔۔ریاض الدین۔انورفاروقی۔زاہد محمود۔صغیر حسین۔معید خان اور ایم ندیم سمیت دیگر عہدیداروں موجود تھے۔ پریس کانفرنس کے موقع پر حیدر حسین نے اعتماد کے اظہار کرنے پر جنید علی شاہ سمیت تمام عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا۔ حیدر حسین کا کہناتھا کہ ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے آج بھی بات چیت کے ذریعے اختلافات دور کرنا چاہتے ہیں۔

خیبر پختخواہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ فیڈریشن کی خواہش پر گیاتھا جس کا مقصد کے پی کے اور فیڈریشن کے خلاف معاملات درست کروانا تھا۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ مصدق حسین اس بات کو اپنی ذات پر لے لیں گے۔مصدق حیسن کا کہنا ہے کہ میں ان کے دشمنوں سے کیوں ملا۔ اب ہاکی فیڈریشن بتائے کہ قصوروار کون ہے۔