نریندر مودی کے بھگوان شری آسا رام کو گرفتار کرنیوالے افسر کو1600 دھمکی آمیز خطوط موصول

پیروکاروں نے اہلکاروں کو خطیر رقم کی پیشکش اور جان سے مارنے کی دھمکی دی،آفیسر اجے پال لامبا کی پریس کانفرنس

جمعرات اپریل 23:14

جودھپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بھگوان شری آسا رام کو گرفتار کرنیوالے افسر کو1600 دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے،آسا رام کے پیروکاروں نے پولیس اہلکاروں کو خطیر رقم کی پیشکش اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بھگوان شری آسا رام کو گرفتار کرنیوالے افسر کو1600 دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے۔

آسا رام کے پیروکاروں نے پولیس اہلکاروں کو خطیر رقم کی پیشکش اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ بھارتی علاقے جودھپور کی خصوصی عدالت کو زیادتی کیس کے ملزم آسا رام کو تاحیات قید کی سزا سنانا اتنا آسان نہیں تھا۔ اسمیں آئی پی ایس افسر اجے پال لامبا نے اہم کردار ادا کیا۔تفصیلات کے مطابق جب لڑکی نے آسارام پر زیادتی کا الزام لگایا تو لامبا اس وقت جودھپور ویسٹ کے ڈپٹی کمشنر تھے۔

(جاری ہے)

فی الحال اینٹی کرپشن بیور ومیں تعینات لامبا نے بتایا کہ جب لڑکی نے آسارام پر زیادتی کرنے کا الزام لگایا تو مجھے لگا کہ آسارام کی شخصیت خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم جب لڑکی نے جودھپور سے تقریباً38کلومیٹر کے فاصلے پر آسارام کے منئی گائوں میں واقع آشرم کا نقشہ بالکل درست بتایا جہاں اس کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھاتومجھے یقین آیا۔

پولیس کو بڑی کامیابی 31اگست کو اس وقت ملی جب 5پولیس افسرو ں اور 6کمانڈروں کی ٹیم اندور میں واقع آشرم بھیجی گئی۔اس وقت پریس کانفرنس کرکے آگاہ کیا گیا کہ آسارام ہمارے راڈار پر ہے تووہ یہ سن کر بوکھلا ہٹ کا شکار ہوگیا۔ اس کے پیروکاروں نے پولیس اہلکاروں کو خطیر رقم کی پیشکش کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی جانے لگی۔ لامبا نے بتایا کہ کم سے کم 1600ایسے خطوط موصول ہوئے جن میں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی لیکن ہم اپنے عزائم سے پیچھے نہیں ہٹے۔ بالاخر جودھپور کی خصوصی عدالت نے عرش سے فرش پر پہنچنے والے آسا رام کو ان کے آشرم میں آنے والی لڑکیوں سے زیادتی کے جرم میں تاحیات قید کی سزا سنائی