شامی اپوزیشن اتحاد کے اہم عہدیداران مستعفی

روس اسد رجیم جیسے جنگی مجرم کے فریم ورک کے مطابق سیاسی حل مسلط کرنا چاہتا ہے،شامی عوام کے لیے اپوزیشن اتحاد سے باہر رہ کر زیادہ بہتر خدمات انجام دے سکتے ہیں، مستعفی اراکین کا موقف

جمعرات اپریل 23:14

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) شامی اپوزیشن اتحاد کے اہم عہدیداران نے استعفیٰ دے دیا، روس اسد رجیم جیسے جنگی مجرم کے فریم ورک کے مطابق سیاسی حل مسلط کرنا چاہتا ہے،شامی عوام کے لیے اپوزیشن اتحاد سے باہر رہ کر زیادہ بہتر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق شامی اپوزیشن کے نمائندہ اتحاد کے کئی سرکردہ رہ نماؤں نے استعفے دے دیے ہیں جس کے بعد اپوزیشن الائنس کی باڈی میں مزید ارکان کی شمولیت کے لیے بات چیت شروع ہوگئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپوزیشن کے سینیر رکن جارج صبرہ، سھیر الاتاسی اور خالد خوجہ نے اپوزیشن اتحاد کی ذمہ داریوں سے علاحدگی اختیار کرلی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذرائع سے شامی اپوزیشن میں اجتماعی استعفوں کے اسباب کا پتا چلا ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کا کہنا ہے کہ استعفیٰ دینے والے ارکان اپوزیشن کونسل کے بعض اقدامات سے ناراض تھے اور انہوں نے بہت سے امور میں اعتراضات کیے تھے۔

جارج صبرہ نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں ںے اپوزیشن سے اس لیے استعفیٰ دیا کیونکہ یہ اتحاد 11 نومبر 2012ء کو جن مقاصد کے لیے قائم کیا گیا تھا وہ پورے نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اتحاد اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر عمل پیرا ہونے میں ناکام رہا اور عوامی امنگوں کو پورا کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن اتحاد میں شامل گروپوں کے درمیان بھی رسا کشی چل رہی ہے۔

مستعفی ہونے والے اپوزیشن رہ نما سھیر الاتاسی کا کہنا ہے کہ شام کے تنازع کا سیاسی حل روس کی شرائط اور طریقہ کار سے مشروط کر دیا گیا ہے اور روس اسد رجیم جیسے جنگی مجرم کے فریم ورک کے مطابق سیاسی حل مسلط کرنا چاہتا ہے۔خالد خوجہ نے کہا کہ وہ شامی عوام کے لیے اپوزیشن اتحاد سے باہر رہ کر زیادہ بہتر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ شامی اپوزیشن اتحاد کا پانچ اور چھ مئی کو اجلاس ہوا رہا ہے جس میں اپوزیشن کونسل کے نئے سربراہ کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :