آفتاب شیرپا ئو کا کو ئٹہ میں پیش آ نے والے دہشتگردی کے واقعات پر افسوس کا اظہا ر

موجودہ صورتحال میں عام انتخابا ت کا انعقاد مشکل ہوتا نظر آرہا ہے، لگ رہا ہے کچھ لو گ الیکشن سے قبل افراتفری چا ہتے ہیں ،امن و اما ن کے قیام کے بغیر سی پیک سمیت دیگر تر قیاتی منصو بوں کی تکمیل مشکل ہو گی،حکومت اور سیکورٹی ادارے الیکشن سے قبل بے یقینی کی صورتحال ختم کریں،خطاب

جمعرات اپریل 23:41

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپا ئو نے کو ئٹہ میں پیش آ نے والے دہشتگردی کے واقعات پر افسوس کا اظہا ر کر تے ہو ئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں عام انتخابا ت کا انعقاد مشکل ہوتا نظر آرہا ہے، لگ رہا ہے کچھ لو گ الیکشن سے قبل افراتفری چا ہتے ہیں ،امن و اما ن کے قیام کے بغیر سی پیک سمیت دیگر تر قیاتی منصو بوں کی تکمیل مشکل ہو گی بلکہ تیز رفتار معا شی تر قی کا خواب بھی شر مندہ تعبیر نہ ہو گا ۔

ان خیا لا ت کا اظہا ر انہوں نے کو ئٹہ ڈسٹرکٹ با ر ایسوسی ایشن با ر روم میں وکلا ء اور بعد ازاں قومی وطن پارٹی کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا۔

(جاری ہے)

قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپا ئونے کہا کہ میں پہلی با رکیسز ختم ہونے کے کوئٹہ آیا ہوں، گزشتہ روز یہاں پیش آ نے والے دہشتگردی کے واقعہ میں پو لیس جو نوں کی شہا دتیں ہو ئیں ہیں ہم فورسز پر خودکش حملوں کی مذمت کر تے ہیں انہوں نے کو ئٹہ میں مسیحی اور ہزارہ برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ پر تشویش کا اظہا ر کر تے ہو ئے کہا کہ اس وقت بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت دہشتگردی کی زد میں ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ملک اور بلو چستان سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ الیکشن قریب آتے ہی دہشگردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے جن سے لگ رہا ہے کہ عام انتخابات سے قبل یہاں کچھ لوگ افراتفری چاہتے ہیںانہوں نے کہا کہ بلوچستان اور کے پی کے میں روزانہ لاشیں گرتی ہیں،حکومت اور سیکورٹی ادارے الیکشن سے قبل بے یقینی کی صورتحال ختم کرے تا کہ الیکشن کی تیاری کی جا سکے سانحہ اے پی ایس کے بعد20نکا تی نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا بلکہ اس پر تما م سیاسی جما عتوں اور عسکری قیا دت نے اتفا ق کر تے ہو ئے فیصلہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد کر تے ہو ئے دہشتگردی کے نا سور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے لیکن افسوس اس پلا ن پر پو ری طرح عمل در آ مد نہ ہو سکا، ضرورت اس امر کی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پرفو ری عملدآمد کے لئے اقدا ما ت اٹھا ئے جا ئیں، انہوں نے کہا کہ امن و اومان کی بہتری تک سی پیک سمیت دیگر منصوبوںکی تکمیل مشکل ہے بلکہ جب تک ملک میں امن نہیں آتااس وقت تک ملک میں تیز رفتار معا شی ترقی کا خواب شر مندہ تعبیر نہ ہو گا، انہوں نے ہمسایہ ممالک افغانستان اورایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے لئے کو ششوں پر زور دیا اور کہا کہ ہمسا ئیہ مما لک میں امن سے ہما رے ملک کا امن وابستہ ہے ہما را افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات کا فقدان مو جو د ہے، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت دو رائے پر مفلوج ہوکررہے گئی ہے،وفا ق کو صوبوں کے حقوق کی پاسداری کرنی ہوگی، انہوں نے کہا کہ 3ماہ کا پیش کیا جانا چا ہیئے ،ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمرا ن خود کہہ ر ہے ہیں کہ پارلیمنٹ بے بس ہے اس لئے سیاسی تنائو ملک کے لئے سازگار ثابت نہیں ،انہوں نے کہا کہ حکمران جما عت (ن) لیگ سیاسی پارٹیوں کوساتھ لیکر نہیں چلی اس لئے اسے اب مشکلا ت کا سا منا ہے انہوں نے ایک مر تبہ پھر فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں زم کر نے کا مطا لبہ بھی کیا ۔