سپریم کورٹ نے سابقہ ادوار میں مختلف سیا سی شخصیات کی جانب سے بینکوں سے لئے گئے قرضوں کی معافی اور پاکستانیوں کے فارن اکائونٹس سے متعلق اسٹیٹ بنک سے تفصلات طلب کر لیں

سٹیٹ بینک سے گزشتہ ایک سال کے دورا ن بیرون ملک بھیجی گئی50 ہزار ڈالر یا اس سے زائد رقم کی ٹرائزیکشن کا ریکارڈ بھی طلب جن لوگوں نے سیاسی بنیادوں پر قرضے معاف کرائے ہیں ان کونوٹس جاری کریں گے اور رقوم واپس کروا کر قومی خزانہ میں جمع کرائیںگے، قرضے واپس نہیں ہوں گے تومتعلقہ شخصیات کے صنعتی یونٹس ضبط کئے جائیں گے، رقم نہیں تواثاثہ ریکور کرائیں گے، سٹیٹ بینک ایک ہفتے میں قرض معافی کی سمری بنا کردے تاکہ کارروائی آگے بڑھائی جائے، ان لوگوں کی نشاندہی کرنا ہوگی جن کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور املاک موجود ہیں، اسٹیٹ بینک کسی بھی وقت بیرون ملک پاکستانیوں کی رقومات کی منتقلی کا آرڈر جاری کر سکتا ہے، اصل نکتہ یہ ہے کہ جو رقم باہر منتقل ہوئی ہے وہ واپس کیسے آئے گی، عدالت کہہ چکی ہے کہ یہ پتہ چلنا چاہئے کہ کتنے پاکستانیوں کے سوئٹزرلینڈ میں اکاؤنٹس اور املاک موجود ہیں مگرہماری اس بات کو اہمیت نہیں دی گئی، اب کیا عدالت اس بات کا انتظار کرے کہ پہلے معاہدہ کرلیا جائے تب ان لوگوں کیخلاف عدالتی کا رروائی ہو، چیف جسٹس

جمعرات اپریل 23:42

سپریم کورٹ نے سابقہ ادوار میں مختلف سیا سی شخصیات کی جانب سے بینکوں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے سابقہ ادوار میں مختلف سیا سی شخصیات کی جانب سے بینکوں سے لئے گئے قرضوں کی معافی اور پاکستانیوں کے فارن اکائونٹس سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں اسٹیٹ بنک سے اس معاملے پر مکمل تفصلات طلب کرلی ہیں اورکہا ہے کہ جسٹس (ر) جمشید علی شاہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں سمری تیار کر کے مسئلے کی نوعیت کا تعین کیا جائے جس کی بنیاد پر عدالت کیس کی کارروائی کو آگے بڑھائے گی۔

عدالت نے سٹیٹ بینک سے گزشتہ ایک سال کے دورا ن بیرون ملک بھیجی گئی50 ہزار ڈالر یا اس سے زائد رقم کی ٹرائزیکشن کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے جبکہ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے سیاسی بنیادوں پر قرضے معاف کرائے ہیں ان کونوٹس جاری کریں گے اور رقوم واپس کروا کر قومی خزانہ میں جمع کرائیںگے، قرضے واپس نہیں ہوں گے تومتعلقہ شخصیات کے صنعتی یونٹس ضبط کئے جائیں گے، رقم نہیں تواثاثہ ریکور کرائیں گے، سٹیٹ بینک ایک ہفتے میں قرض معافی کی سمری بنا کردے تاکہ کارروائی آگے بڑھائی جائے، ان لوگوں کی نشاندہی کرنا ہوگی جن کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور املاک موجود ہیں، اسٹیٹ بینک کسی بھی وقت بیرون ملک پاکستانیوں کی رقومات کی منتقلی کا آرڈر جاری کر سکتا ہے، اصل نکتہ یہ ہے کہ جو رقم باہر منتقل ہوئی ہے وہ واپس کیسے آئے گی، عدالت کہہ چکی ہے کہ یہ پتہ چلنا چاہئے کہ کتنے پاکستانیوں کے سوئٹزرلینڈ میں اکاؤنٹس اور املاک موجود ہیں مگرہماری اس بات کو اہمیت نہیں دی گئی، اب کیا عدالت اس بات کا انتظار کرے کہ پہلے معاہدہ کرلیا جائے تب ان لوگوں کیخلاف عدالتی کا رروائی ہو۔

(جاری ہے)

بدھ کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پرگورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دورا ن نیشنل بینک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ماضی میں بنکوں سے لئے گئے قرضے معاف کروانے سے متعلق کمیشن تشکیل دیا گیا تھا، سرکلر جاری ہونے پر بنک کے قرضہ جات معاف کرائے گئے، بینکوں نے اسٹیٹ بنک کے سرکلر پر عملدرآمد کیا۔

چیف جسٹس نے نیشنل بینک کے وکیل سے استفسار کیا کہ لگ بھگ کتنے ارب کے قرضے معاف کروائے گئے ہیں۔ فاضل وکیل نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق54 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے ہیں جبکہ کمیشن نے 54 ارب روپے کے قرضوں کی معافی کو ماضی کا قصہ قرار دیا۔ اسٹیٹ بینک کے نمائندہ نے عدالت کو بتایا کہ قرضوں کی معافی کے معاملے پراسٹیٹ بینک نے اپنا جواب داخل کرا دیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پرانے اوربھلائے گئے قرضوں کے مقدمات کو نکلوا رہی ہے، لیکن ہمیں بتایا جائے کہ کمیشن کی رپورٹ میں کیا فائنڈنگ دی گئی تھیں، یقینًا کچھ لوگوں نے سیاسی بنیادوں پر بھی قرضے معاف کرائے ہوں گے، کسی جگہ فریقین نے سمجھوتہ بھی کر لیا ہو گا، ہم اصل حقائق جاننا چاہتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ قرضوں کی معافی سے متعلق 223 مقدمات مشکوک ہیں، دوسری جانب غیرملکی اکائونٹس کے معاملے پر حکومت نے 4آرڈیننس جاری کئے ہیں، جو ہم عدالت کو پیش کریں گے۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے فارن اکائونٹس موجود ہیں، ہمیں بتایا جائے کہ رقم کس طرح واپس ملک میں لائی جاسکتی ہے، نیشنل بینک نے بھی کئی ارب کے قرضے معاف کئے ہیں، لیکن کمیشن کی رپورٹ آنے کے باوجود قرضے معاف کرانے والوں کیخلاف مقدمے قائم ہوئے نہ کوئی کا رروائی ہوئی اور یہ معاملہ2007ء سے زیر التوا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت نے یہ معاملہ متعلقہ بینکوں کوبھجوا دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جن لوگوں نے سیاسی بنیادوں پر قرضے معاف کرائے ہیں ہم ان کونوٹس جاری کریں گے اور سیاسی بنیادوں پرمعاف کرائے گئے قرضے واپس کروائے جائیں گے، فی الوقت عدالت قرض معافی کے بارے میں کمیشن کی فائنڈنگ کا جائزہ لے گی، ابھی یہ دیکھناہے کہ اس کیس کوکیسے چلایا جائے، جوقرضے قانون کے مطابق معاف نہیں ہوئے ہیں، وہ واپس لے کر قومی خزانہ میں جمع کرائے جائیںگے، اگر قرضے واپس نہیں ہوں گے تومتعلقہ شخصیات کے صنعتی یونٹس ضبط کئے جائیں گے، رقم نہیں تواثاثہ ریکور کرائیں گے، سٹیٹ بینک ہمیںایک ہفتے میں قرض معافی کی سمری بنا کردیدے تاکہ کارروائی آگے بڑھائی جائے، لیکن لگتاہے کہ کمیشن کی عبوری رپورٹ آئی تھی حتمی رپورٹ نہیں دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ابھی تو ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ قوم کاکتناپیسہ بیرون ملک چلاگیا ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے بتایا کہ عدالت نے ایڈووکیٹ خالد انور کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی، جس کی رپورٹ آچکی ہے، اس بات کااحاطہ کیا جانا چاہیے کہ پیسہ ملک سے بیرون ملک کس طرح چلا گیا، ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ قوانین اور معاہدوں کودیکھا جائے، ٹی او آر میں یہ بات شامل ہے کہ غیر قانونی طریقے سے منتقل رقم کی واپسی کیلئے میکنزم بنایا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کسی بھی وقت بیرون ملک پاکستانیوں کی رقومات کی منتقلی کا آرڈر جاری کر سکتا ہے، اصل نکتہ یہ ہے کہ جو رقم باہر منتقل ہوئی ہے وہ واپس کیسے آئے گی، ہمیں ان لوگوں کی نشاندہی کرنا ہوگی جن کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور املاک موجود ہیں۔۔گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ یہ بات ٹی او آر میں شامل نہیں تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کہہ چکی ہے کہ یہ پتہ چلنا چاہئے کہ کتنے پاکستانیوں کے سوئٹزرلینڈ میں اکاؤنٹس اور املاک موجود ہیں مگرہماری اس بات کو اہمیت نہیں دی گئی، اب کیا عدالت اس بات کا انتظار کرے کہ حکومت پہلے معاہدہ کرلے تب ان لوگوں کیخلاف عدالتی کا رروائی ہو،کیا ایف بی آر اپنے ٹیکس ہولڈر سے نہیں پوچھ سکتا کہ ان کے بیرون ملک اکاؤنٹس ہیں یا نہیں۔

گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ ہر ٹیکس ہولڈر اس امرکا پابند ہے کہ وہ فارن اکاؤنٹ اور املاک کے بارے میں ایف بی آر کوآگاہ کرے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا سسٹم مفلوج ہے یعنی اگر ٹیکس دہندہ معلومات فراہم نہ کرے تو ہم فارن اکاؤنٹس کی معلومات حاصل نہیں کر سکتے،کیا اسٹیٹ بینک کے پاس ایسی معلومات ہوں گی کہ کس نے کتنے ڈالر بیرون ملک بھیجے ہیں، آج ڈالر 118 روپے پرچلا گیا ہے۔

جس پرگورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ بینکوں سے ایسی معلومات لی جا سکتی ہیں، ایک سال میں پچاس ہزار ڈالر یا اس سے زائد جتنی رقم باہر بھیجی گئی ہیں وہ ساری معلومات لی جاسکتی ہیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اس طرح کی معلومات اسٹیٹ بینک خودکیوں حاصل نہیں کرتا۔ اثاثوں کو پکڑنے کے لیے فارن اکائونٹس میں ٹرانزیکشن کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ 1992ء کے ایکٹ کے مطابق ایسی ٹرانزیکشن خفیہ ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو1992کا متعلقہ قانون دکھا یا جائے تاکہ اس کو معطل کیا جائے۔ چیف جسٹس نے سرکاری گاڑیوں کے حوالے سے کہاکہ ایف بی آر کے پاس درجنوں ڈبل کیبن گاڑیاں موجود ہیں، حالانکہ وہ یہ گاڑیاں استعمال کرنے کے مجاز نہیں، آخر ایف بی آر کے پاس یہ گاڑیاں کہا ں سے آئی ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ڈبل کیبن آپریشنل گاڑیاں ہیں ،کچھ گاڑیاں یوایس ایڈ نے دی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایف بی آر نے ایسا کونسا آپریشن کرنا ہوتا ہے جو 1300سی سی گاڑی سے نہیں ہوسکتا۔ کسٹم حکام جو نان کسٹم پیڈ گاڑیاں پکڑتے ہیں ان کی تفصیلات واضح کی جائیں، کیونکہ جونان کسٹم پیڈ گاڑیاں پکڑی جاتی ہیں افسران ا نکو ضبط کرنے کی بجائے خود استعمال کرتے ہیں، یہ پالیسیاں خود بنائی گئی ہیں جس کے ذریعے پیسہ بیرون ملک چلا جائے، مارکیٹ سے ڈالراٹھاکر فارن اکاؤنٹس میں ڈال دیا جاتا ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم ملکی قانون کے پابند ہیں، عدالت متعلقہ قوانین کی تشریح کر دے تو ہم اس کی پابندی کریں گے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ دبئی میں کتنے پاکستانیوں کی جائیدادیں موجود ہیں، بے شک وہ بھول جائیں لیکن اگر ایف بی آر کے پاس کوئی چھڑی نہیں ہے تو ایمنسٹی اسکیمیں کیوں دی جاتی ہیں۔ حکومت ایسے اقدام اٹھائے کہ اثاثوں کی ریکوری کے لئے غیر ملکی معاہدوں پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

چیف جسٹس کاکہنا تھاکہ ملک کی بقا بیرون ملک اثاثوں کی وطن واپسی اور پانی سے وابستہ ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ 1998 ء میں ایٹمی دھماکوں کے بعد فارن اکاؤنٹس منجمند ہونے سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم عدالت کے ریمارکس سے ڈالر کے ریٹ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ایسے اقدامات کریں جس سے معیشت پر منفی اثر نہ پڑے۔

بعدازاں عدالت نے اسٹیٹ بینک سے بیرون ملک منتقل رقم کی تفصیلات طلب کر تے ہوئے واضح کیا کہ پچاس ہزار ڈالر سے اوپر منتقل ہونے والی تمام رقومات کی تفصیلات عدالت کو پیش کی جائیں۔ چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ جہانگیرترین نے کتنے ملین ڈالرز بیرون ملک بھیجے ہیں، انہوں نے باہر اثاثے بنالئے لیکن ٹیکس گوشواروں میں کچھ اور بتایا۔ سماعت کے دوران سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ انہوں نے بھی پٹیشن دائر کردی ہے۔ عدالت نے جہانگیر ترین کی بیرون ملک ٹرانزیکشن کا ریکارڈ اورایڈیشنل اٹارنی و ایڈووکیٹ جنرلز کے توسط سے سرکاری محکوں کو دی جانے والی لگژری گاڑیوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے مزید سماعت دوہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔