24 اکتوبر 2017ء کا فیصلہ معطل،سپریم کورٹ نے ملک بھر کے کنٹونمنٹ علاقوں سے سکول منتقل یا ختم کرانے کا عمل روک دیا،یہ اقدام اتنی جلدی اور ہنگامی طور پر کیوں کیا گیا، کنٹونمنٹ بورڈز سے جواب طلب کر لیا

جمعہ اپریل 01:10

24 اکتوبر 2017ء کا فیصلہ معطل،سپریم کورٹ نے ملک بھر کے کنٹونمنٹ علاقوں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے تاحکم ثانی ملک بھر کے کنٹونمنٹ علاقوں سے سکول منتقل یا ختم کرانے کے عمل کو روکتے ہوئے کنٹونمنٹ بورڈز سے جواب طلب کر لیا ہے کہ یہ اقدام اتنی جلدی میں کیوں کیا گیا اور اس پر ہنگامی طور پر عملدرآمد کی کیا وجہ ہے۔ بدھ کو عدالت کے انسانی حقوق سیل نے ایک نوٹ پیش کیا جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پاکستان بھر کے کنٹونمنٹ علاقوں سے تمام سکول 15 دنوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

24 اکتوبر 2017ء کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ہدایت کی تھی کہ متعلقہ علاقوں سے تجارتی اور تعلیمی عمارتوں کو بتدریج ختم کیا جائے،عدالت نے کہا ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ عدالتی حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا گیا۔ اگر تعلیمی اداروں کو فوری ختم کرنے کی اجازت دی گئی تو طلباء کی ایک بڑی تعداد کا تعلیمی کیریئر متاثر ہو سکتا ہے۔ عدالت نے 24 اکتوبر 2017ء کے حکم کو معطل کرتے ہوئے کنٹونمنٹ علاقوں سے تعلیمی اداروں کی منتقلی روک دی اور کنونمنٹ بورڈز سے جواب طلب کر لیا۔

متعلقہ عنوان :