گوداموں میں اناج کی حفاظتی ، احتیاطی ، تدارکی تدابیر کے بغیر سٹوریج نہ کریں،زرعی ماہرین

جمعہ اپریل 11:58

فیصل آباد۔27 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) گوداموں میں اناج کی حفاظتی ، احتیاطی ، تدارکی تدابیر کے بغیر سٹوریج سے مختلف نقصانات اناج کے وزن اور معیار پر اثر انداز ہوتے ہیںلہٰذا کاشتکار ماہرین زراعت کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ بعد ازاں اناج کو نقصان سے بچایاجاسکے۔ فیصل آباد کے زرعی سائنسدانوں نے بتایا کہ جب اناج کو گوداموں میں محفوظ کرلیا جاتا ہے تو مختلف نوعیت کے نقصانات اناج کے معیار اور وزن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ پرندے حشرات اور دیگر کترنے والے جانداروں کے علاوہ درجہ حرارت میں زیادتی وکمی اور آب وہوا بھی اناج کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اگر گودام کا درجہ حرات زیادہ ہوجائے تو اناج میں عمل تنفس تیز ہوجاتا ہے جس سے اناج کے گلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اسی طرح اگر گودام میں نمی کا تناسب متوازن نہ رہے تو بھی اناج کے ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے نیز اگر گودام میں ہوا کی آمدورفت مناسب نہ ہوتو مختلف عوامل کی وجہ سے کیڑوں اور خوردبینی جانداروں کا حملہ بڑھ جاتا ہے جو اناج میں بدبو پیدا کرنے کا سبب بنتاہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ اگر کاشتکار پرانی بوریاں استعمال کررہے ہیں تو دانوں کو بوریوں میں بھرنے سے پہلے بوریوں کو اچھی طرح جھاڑ لیں جبکہ غلہ کو گوداموں میں ذخیرہ کرتے وقت دانوں میں نمی 10فیصد سے زیادہ نہ ہو۔انہوںنے کہاکہ جس قدر ممکن ہوسکے اناج کو بارش اور دیگر موسمی اثرات سے محفوظ رکھاجائے اور اناج ذخیرہ کرنے سے پہلے گودام کی اچھی طرح صفائی کرتے ہوئے زہر کے محلول کا سپرے کرلیاجائے تاکہ گودام کیڑوں اور دیگر بیماریوں سے پاک ہوجائے۔

انہوںنے کہاکہ کاشتکار سپرے کرنے کے بعد گودام کو دودن کے لیے ہوا بند رکھیںاور کھولنے کے 4سی6گھنٹے بعد تک گودام میں داخل نہ ہوں۔ انہوںنے کہاکہ گودام کو کیڑوں ، بیماریوں اور مائٹس کے حملہ سے بچائو کے لیے مناسب اقدامات کریں جبکہ اس مقصد کے لیے مختلف کیمیائی مرکبات مثلاً ایلومینیم فاسفائیڈ ، میتھائل برومائیڈ وسوڈیم سایانائیڈ اور ایگناکسن وغیرہ کا استعمال کیاجاسکتاہے ۔

متعلقہ عنوان :