حوثی جنگ میں افرادی قوت کے لیے ریاستی ملازمین سے مدد کے طلب گار

میدان جنگ میں حوثیوں سے مل کرآئینی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے افراد کو تیار کریں،اپنے ایجنٹوں کوہدایت

جمعہ اپریل 12:59

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) یمن کے ایرانی پروردہ حوثی باغیوں کو شدید افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے جس کے باعث ان کی شہریوں کوجنگ کے لیے بھرتی کرنے کی تمام مہمات رائیگاں گئی ہیں۔ باغی سرکاری ملازمین سے افرادی قوت میں مدد لینے پر مجبور ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق حوثیوں کی طرف سے ایک سال سے زائد عرصے سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور مالی مراعات بند کی گئی ہیں۔

بچوں کو جنگ میں جھونکنے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی مہمات میں ناکامی کے بعد اب ان سرکاری ملازمین کو بھی جنگ کا ایندھن بنانے کی سازشیں شروع کردی گئیں۔حوثی شدت پسندوں کی طرف سے یمن کے سرکاری اقتصادی ادارے کے ملازمین کے نام ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں جنگ میں حصہ لینے کے خواہاں افراد سے ان کے نام مانگے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

ذرائع کا تھاکہ اسی سرکلرسے ملتے جلتے دعوتی پیغامات دوسرے سرکاری اداروں کو بھی بھجوائے گئے ۔

سرکاری ملازمین کو یہ لالچ دیا گیا کہ اگر وہ میدان جنگ میں خدمات انجام دینے کے لیے رضامندی کا اظہار کریں تو ان کے روکے گئے واجبات اور سابقہ تنخواہیں بھی ادا کردی جائیں گی۔تازہ دستاویز 23 اپریل 2018ء کو جاری کی گئی ہے۔ اس سرکلر میں حوثی لیڈر حسن المرانی المعین کے دستخط ثبوت ہیں۔ موصوف یمن کی سرکاری اقتصادی فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ہیں۔

انہوں نے محکمے میں ایسے افراد کے نام مانگے ہیں جو اپنی سابقہ تنخواہوں کی بحالی کے عوض کم سے کم تین دن تک میدان جنگ میں خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی لیڈروں کی طرف سے سرکاری محکموں میں تعینات کردہ اپنے ایجنٹوں کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ سرکاری ملازمین کو میدان جنگ میں حوثیوں سے مل کرآئینی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے افراد کو تیار کریں۔

متعلقہ عنوان :