پاکستان مخالف پراپیگنڈہ آپریشنز کابل سے چلائے جانے کا انکشاف

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ اپریل 12:37

پاکستان مخالف پراپیگنڈہ آپریشنز کابل سے چلائے جانے کا انکشاف
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 27 اپریل 2018ء) : پاکستان مخالف پراپیگنڈہ آپریشنز افغان دارالحکومت کابل سے چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خلاف سائبر پراپیگنڈہ آپریشنز افغانستان کے دارالحکومت کابل سے چلائے جاتے ہیں۔ کوئٹہ میں دہشتگرد حملے افغانستان کے صوبے قندھار سے لانچ کیے گئے۔

سکیورٹی ذرائع نے ملک کےاعلیٰ انٹیلی جنس اداروں کو رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان آپریشنز سے جُڑی ایک ویب سائٹ کو ٹریس کر نے کے بعد اسے پاکستان کے لیے بلاک کر دیا گیا ہے۔ پاکستان مخالف سائبر پراپیگنڈہ کابل کے ڈسٹرکٹ 3 اور ڈسٹرکٹ 6 کے علاقوں سے چلائے جا رہے ہیں۔ یہ کابل کے پوش ایریاز اور ہائی سکیورٹی زون میں آتے ہیں جس میں کابل یونیورسٹی ، فائیو صٹار ہوٹل ، سفاتخانے اور افغانستان میں کام کرنے والی بڑی این جی اوز کے ہیڈ آفس ہیں، انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق پاکستان کے خلاف ملوث جس بڑی پروپیگنڈہ ویب سائٹ کو ٹریس کرنے کے بعد بلاک کیا گیا ہے وہ کابل کے ڈسٹرکٹ 3 ہاؤس نمبر 644، سٹریٹ نمبر 11، سیوم اقرب روڈ سے چلائی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق پاکستان مخالف سائبر پراپیگنڈہ آپریشنز کی سپورٹ بیس ڈسٹرکٹ 6 ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے کوئٹہ میں ہونے والے تازہ دہشتگردو حملوں کے حوالے سے انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے افغان صوبے قندھار سے لانچ کیے گئے ۔ اس ضمن میں انٹیلی جنس اداروں نے کچھ معلومات تو حاصل کی ہیں لیکن کچھ کا کھوج لگایا جا رہا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے نکالے جانے والے کچھ لیکچررز پاکستان مخالف خیالات اور لسانی تعصبات کو فروغ دے رہے تھے۔ ان کے ٹارگٹ میں زیادہ طلبا کا تعلق خیبرپختونخواہ اور بلوچستان سے تھا۔