پیپلزپارٹی 2018 میں پاکستان بھر میں واضح اکثریت سے حکومت بنائے گی‘میر یونس

آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی ملک میں سب سے بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے

جمعہ اپریل 13:30

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء ممبر کشمیر کونسل میر یونس نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی 2018 میں پاکستان بھر میں واضح اکثریت سے حکومت بنائے گی، گزشتہ روز میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 2018 کے انتخابات میں چاروں صوبوں سمیت وفاق میں بھی پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے حکومتیں بنائے گی، شریک چیرمین پیپلزپارٹی مرد حر آصف علی زرداری،، چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی ملک میں سب سے بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے۔

مسئلہ کشمیر انشاء اللہ پیپلزپارٹی کے دور میں حل ہو گا۔۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اقوام عالم اپنے خصوصی مبصرین مقرر کریں، مقبوضہ کشمیر میں جاکر حقائق جانتے ہوئے کشمیریوں پر ڈھاے جانیوالے بھارتی مظالم بند کرائیں، بھارت طویل عرصے سے طاقت کے زور پر کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کی کوششیں کر رہا ہے مگر ہمیشہ ناکام ہوا، کشمیری عوام اپنا پیدائشی حق خودارادیت لیکر ہی دم لیں گے، گزشتہ روز میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سانحہ شوپیاں نے دنیا کے سامنے بھارت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں معصوم بچوں پر مظالم کی انتہا بھارت کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے، ماوں، بہنوں کی تقدس پامال، بے حرمتی، نوجوانوں پر وحشیانہ تشدد ہر روز بڑھ رہا ہے، ایسے حالات میں اقوام عالم کی خاموشی دنیا کے امن کے لیے بڑا خطرہ ہے، ہم دنیا میں انسانی حقوق پر کام کرنے والی تمام تنظیموں، اقوام متحدہ،، او آئی سی سمیت تم مہذب ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال جاننے اور کشمیریوں پر ڈھاے جانیوالے مظالم بند کرانے کے لیے اپنے خصوصی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر بھیجیں تاکہ وہ نام نہاد جمہوریت کے لبادھے میں چھپے بھارت کا اصل چہرہ دیکھ سکیں اور کشمیریوں کو بھارتی بربریت سے نجات دلائیں، ورنہ بھارت کی مکروہ سازشیں اور بوکھلاہٹ دنیا کے امن کو تباہ کر دینگی، ہم بھارت کے ہر عمل کا ردعمل دینا جانتے ہیں مگر ہم امن پسند اور انسانیت دوست ہونیکی وجہ سے خواہش رکھتے ہیں کہ کشمیر کا۔

(جاری ہے)

مسلہ پرامن طریقے سے حل ہوجائے، ہم بھارت پر بھی یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔