شام کی طول پکڑتی جنگ سے عطیہ دہندگان ممالک اور تنظیموں کودرپیش مشکل

جمعہ اپریل 13:40

برسلز۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) شام کی طول پکڑتی جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کرنے والے ملکوں کو مشکل پیش آ رہی ہے۔ جمعہ کو عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عطیات فراہم کرنے والوں میں سے تقریباً 80 ملکوں اور تنظیموں کی برسلز میں منعقد ہونے والی دوروزہ کانفرنس ختم ہو گئی ہے۔شرکا نے نئے امدادی اقدامات کرنے کا وعدہ کیا اور چار ارب چالیس کڑوڑ ڈالر جمع کیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

لیکن امریکہ کی جانب سے مدد فراہم کرنے سے انکار کے باعث یہ رقم اقوام متحدہ کے تخمینہ کردہ 6 ارب ڈالر سے کم ہے۔شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سٹیفن دے میتسٴْورا نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سرمائے کی کمی کے علاوہ یہ خدشہ بھی ہے کہ طول پکڑتے انتشار کے باعث داعش کے جنگجوؤں کو ابھرنے کا موقع مل سکتا ہے۔۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نگران فیڈریکاموگیرینی نے زور دیا ہے کہ روس اور ایران کو چاہیئے کہ شام کے صدر بشارالاسدکی حکومت کو امن مذاکرات کی جانب مائل کریں۔