جاپان کی ایک ہائیکورٹ کا سونامی سے متاثرہ افراد کوزرتلافی کی ادائیگی کا حکم

جمعہ اپریل 13:40

ٹوکیو۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) شمال مشرقی جاپان کی ہائی کورٹ نے مقامی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ 2011 کے زلزلے اور سونامی کے باعث ہلاک ہونے والے سکول کے بچوں کے اہل خانہ کو زر تلافی ادا کریں۔ جمعہ کو جاپانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق میاگی پریفیکچر کے اِشی نوماکی شہر میں اوکاواپرائمری اسکول کے 74 طالبعلم اس سانحے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ان میں سے 23 بچوں کے والدین نے زرتلافی کے مطالبے کے لیے شہر اور پریفیکچر کی حکومتوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ اکتوبر 2016 میں ایک ذیلی عدالت نے مقامی حکومتوں کو زرتلافی کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔سیندائی ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ پریفیکچر اور شہر کی حکومت کو چاہیئے کہ متاثرہ خاندانوں کو ایک کروڑ تیس لاکھ ڈالر سے کچھ زیادہ ادا کریں، یہ رقم ذیلی عدالت کی جانب سے فیصلہ کردہ رقم سے تقریباً نوے ہزار ڈالر زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

ہائی کورٹ نے مزید کہا ہے کہ سکول 11 مارچ 2011 کے سانحے سے قبل ضروری اقدامات کرنے میں ناکام رہا۔ہائی کورٹ کے پریذائڈنگ جج ہیروشی اوگاوا نے کہا کہ سانحے سے قبل یہ پیشگوئی کرنا ممکن تھا کہ سونامی لہریں اسکول تک پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذمہ دار افراد سانحات سے بچاؤ کے ہدایت نامے میں انخلائی مقامات اور ان تک جانے والے راستوں کی وضاحت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

متعلقہ عنوان :