پالیمنٹ کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں ،آرٹیکل 62 کے تحت جسے نا اہل کیا جاتا ہے اس میں جھوٹ کا عنصر شامل ہوتا ہے ،خواجہ آصف کی نا اہلی سے خوش نہیں ہوں ،نواز شریف سے بار بار اس قانون کے خاتمے کا کہا ،نواز شریف نے خاتمے کے لیے تعاون نہیں کیا ،ججز کو بھی سیاسی معاملات کو سیاسی رکھنا چاہیے ،بہتر ہوتا کہ معاملہ پارلیمنٹ بھیج دیا جاتا ،پاکستان کی سیاست پارلیمانی ہونی چاہیے

بجٹ اجلاس کے دن اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا بڑا بیا ن

جمعہ اپریل 14:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہاہے کہ پالیمنٹ کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں ،ساری گیم یا سیاست پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے ،آرٹیکل 62 کے تحت جسے نا اہل کیا جاتا ہے اس میں جھوٹ کا عنصر شامل ہوتا ہے ،،خواجہ آصف کی نا اہلی سے خوش نہیں ہوں ،،نواز شریف سے بار بار اس قانون کے خاتمے کا کہا ،،نواز شریف نے خاتمے کے لیے تعاون نہیں کیا ،ججز کو بھی سیاسی معاملات کو سیاسی رکھنا چاہیے ،بہتر ہوتا کہ معاملہ پارلیمنٹ بھیج دیا جاتا ،،پاکستان کی سیاست پارلیمانی ہونی چاہیے۔

جمعہ کو بجٹ اجلاس کے دن اپنے بڑے بیان میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہاکہ کسی بھی پارٹی سے ورکر نکل جائے تو ضرور افسوس ہوتا ہے۔۔پارلیمنٹ کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں ۔

(جاری ہے)

آرٹیکل 62 کے تحت جسے نا اہل کیا جاتا ہے اس میں جھوٹ کا عنصر شامل ہوتا ہے۔۔خواجہ آصف کی نا اہلی سے خوش نہیں ہوں۔۔نواز شریف سے بار بار اس قانون کے خاتمے کا کہا۔۔نواز شریف نے خاتمے کے لیے تعاون نہیں کیا۔

ججز کو بھی سیاسی معاملات کو سیاسی رکھنا چاہیے۔بہتر ہوتا کہ معاملہ پارلیمنٹ بھیج دیا جاتا۔۔پاکستان کی سیاست پارلیمانی ہونی چاہیے۔۔خواجہ آصف کے ساتھ جو ہوا قانونی نقطہ نظر کے ذریعے ہوا۔یہ پارلیمانی نظام کے تحت ٹھیک نہیں ہے۔ ضیا الحق نے آج تک کسی سیاستدان کو نہیں بخشا۔مرنے کے بعد بھی نہیں بخش رہا۔اب تو اپنے ہی بچوں کے گلے میں ہار ڈالا ہوا ہے۔

موجودہ حکومت کو 4 ماہ سے زیادہ کا بجٹ نہیں دینا چاہیے۔حکومت پارلیمنٹ کیوقار سے کھیلنا چاہتی ہے۔حکومت سے کہتا ہوں کہ 4 ماہ کا بجٹ پیش کرے۔حکومت ایک سال کا بجٹ پیش کر کے نئی روایت ڈال رہی ہے۔حکومت نے 5 سال غریبوں کو ریلیف نہیں دیا۔ اب کیا دے گی۔مہنگے قرضے آنے والے وقت میں مشکلات میں اضافہ کریں گے۔موجودہ حکومت میں نئی سرمایہ کاری نہیں آئی۔

حکومت نے قرضوں کا بوجھ بڑھا دیا ہے۔ساری گیم یا سیاست پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کی نا اہلی کے پیچھے ضیاالحق کی مہربانیاں ہیں، ضیا الحق کی پالیسیوں نے کسی کو نہیں بخشا ۔انہوں نے کہاکہ آئین کا آرٹیکل 62 اور 63 کالا قانون ہے۔ میرے سمیت کوء بھی سیاستدان خواجہ آصف کی نا اہلی سے خوش نہیں ہے۔ اس قانون سے آج ضیا الحق کے بچے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ بہتر ہوتا یہ معاملہ پارلیمنٹ ہی حل کرتی۔ حکومت کو کسی طور پر چار ماہ سے زیادہ کا بجٹ پیش نہیں کرنا چاہیے۔ اس معاملے پر تمام اپوزیشن متفق ہے حکومت ایک سال کا بجٹ پیش کر کے نے روایت ڈال رہی ہے۔