نیب کی وائٹ کالر کرائم سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح شاندار ہے ‘

نیب پیشہ وارانہ کارکردگی شفافیت ‘ میرٹ اور قانون پر بلا امتیاز عمل درآمد کے ذریعے ملک سے ہرقسم کی بد عنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے تمام وسائل برئوے کار لا رہاہے، بدعنوان عناصر کو گرفتار کرنے اور لوٹی گئی رقم بر آمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے کیلئے پالیسی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس (ر) جاوید اقبال کا نیب کی مجموعی کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب

جمعہ اپریل 15:54

نیب کی وائٹ کالر کرائم سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح شاندار ہے ‘
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) قومی احتساب بیورو ( نیب )) کے چیئر مین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہاہے کہ نیب کی وائٹ کالر کرائم سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح شاندار ہے ‘ نیب پیشہ وارانہ کارکردگی شفافیت ‘ میرٹ اور قانون پر بلا امتیاز عمل درآمد کے ذریعے ملک سے ہرقسم کی بد عنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے تمام وسائل برئوے کار لا رہا ہے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے نیب ہیڈ کوار ٹر میں نیب کی مجموعی کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ نیب کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے موثر نتائج آئے ہیں ‘ نیب نے بدعنوان عناصر کو گرفتار کرنے اور ان سے لوٹی گئی رقم بر آمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے کیلئے اس پالیسی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے‘ مالیاتی کمپنیوں میں دھوکہ دہی‘ ہائوسنگ اور کوآپریٹو کمپنیوں ‘ بینک فراڈ بنک نادہندہ گان ‘ سرکاری ملازمتوں اور پرائیویٹ اشخاص کے سرکاری فنڈ میں خرد برد اور اختیارات سے تجاوز کے مقدمات کی تفتیش کرنا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ نیب کو 2018ء میں اسی عرصے کے دوران 2017ء کے مقابلے میں دوگناہ شکایات موصول ہوئیں ‘ گزشتہ سال کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیب افسران بدعنوانی کے خاتمے کو قومی فرض سمجھ کر ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے مقدمات تیزی سے نمٹانے کیلئے اوقت کار کا تعین کیا ہے ‘ نیب نے سینئر سپر وائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے ‘ اس سے نہ صرف نیب افسران کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب میں مقدمات کی تحقیقات پر اثرانداز نہیں ہوسکتا‘ انکوائری اور انوسٹی گیشن کے معیار میں بہتری اور سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام بہت کامیاب رہاہے۔

انہوں نے کہاکہ نیب نے ادارہ جاتی احتساب کا نظام وضع کیا ہے‘ اب تک 85 افسران کو سزائیں دی گئیں ہیں جن میں 23 افسران کو مستحق سزائیں دی گئی اور انہیں ملازمت سے برخاست کردیاگیا ہے جبکہ 34 افسران کو نرم سزائیں دی گئی ہیں۔ چیئر مین نیب نے کہا کہ نیب سارک ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے ‘ پاکستان سارک انٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہے ‘ نیب نے بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ملک بھر کے سکولوں ‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کردار سازی کی 50 ہزار سے زائد انجمنیں تشکیل دی گئی ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب نے وفاقی اور صوبائی اداروں میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے کیلئے متعلقہ قوانین اور ریگولیٹری قواعد و ضوابط کا جائزہ لے کر ان کی خامیاں دور کرنے کیلئے پری وینشن کمیٹیاں قائم کی ہیں‘ وفاقی سطح پر یہ پریوینشن کمیٹیاں سی ڈی اے ‘ وزارت مذہبی امور ایف بی آر ‘ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ( پی آئی ڈی ) جبکہ صوبائی سطح پر محکمہ صحت ‘ تعلیم ‘ ریونیو ‘ ہائوسنگ اور کوآپرٹیو میں قائم کی گئی ہیں جبکہ وزارت مذہبی امور میںنیب کی قائم کی گئی پریوینشن کمیٹی نے حج انتظامات کو بہتر بنانے اور حاجیوں کے مسائل کے حل کیلئے جو سفارشات تیارکیں ان پر وزارت مذہبی امور نے عملدرآمد کیا۔

انہوں نے کہاکہ نیب کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے موثر نتائج سامنے آئے ہیں ‘ نیب کے مقدمات میں سزا کی شرخ 77 فیصد ہے جو وائٹ کالر کرائم کے خلاف کسی بھی ادارے کی بہترین کارکردگی ہے ۔