بھارتی سپریم کورٹ نے کم سن آصفہ کی آبروریزی اور قتل کے مقدمے کی سماعت روک دی

جمعہ اپریل 16:13

نئی دہلی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں آٹھ سالہ کم عمر بچی آصفہ کی آبروریزی اور قتل کے مقدمے کی سماعت 7 مئی تک روکنے کے احکامات دیتے ہوئے نامزد مجروں سے کہا ہے کہ وہ مقدمے کوکھٹوعہ کی عدالت سے چندی گڑھ کی عدالت میں منتقل کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر عرضداشت پر اپنا جواب جمع کرائیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق المنا ک واقعے کی سماعت (آج) ہفتہ کو کٹھوعہ کی عدالت میں ہونا تھا تاہم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس ڈی وائی چندرا اور جسٹس اندو ملہوترا نے سماعت روکنے ہوئے کہا کہ وہ مقدمے کو چندی گڑھ منتقل کرنے کے حوالے سے دائر عراضداشت کی سماعت سات مئی کو کریں گے۔یا د رہے کہ آصفہ کو رواں برس جنوری میں ہندو اکثریتی ضلع کٹھوعہ کے علاقے رسانہ میں بے حرمتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

پولیس کے کرائم برانچ نے سپیشل پولیس افسر دیپک کھجوریہ اور دیگر پولیس اہلکاروںکو بہیمانہ واقعے کا مجرم قرار دیتے ہوئے انکے خلاف عدالت میں چارج شیٹ جمع کرا دی ہے۔ واقعے کا ماسٹر مائنڈ ایک ہندو انتہا پسند سابق بیورو کریٹ سنجے رام بتایا جا رہا ہے۔ بے حرمتی اور قتل کا نشانہ بننے والی 8سالہ کم عمر بچی آصفہ کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ بچی کو اغوا کے بعد ایک مندر میں رکھا گیا تھا اور آبرو ریزی کے بعد اسے گلہ دبا کر قتل کیا گیا۔

واقعے کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس بہیمانہ کارروائی کا مقصدکھٹوعہ میں رہائش پذیر مسلمانوں کو علاقہ چھوڑے پر مجبور کرنا تھا۔جموںخطے کے ضلع کٹھوعہ میں ہندوئوںکی اکثریت ہے اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے مجرموں کو بچانے کی سخت کوششوں کی جارہی ہیں ۔وہ بہیمانہ واقعے کی تحقیقات کا کام کشمیر پولیس کے کرائم برانچ سے واپس لیکر بھارتی سی بی آئی کے حوالے کرنے کا پر زور مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔