ریگولرائز یشن آف سروس کنٹریکٹ بل کثرت رائے سے منظور ،ہزاروںکنٹریکٹ ملازمین مستفید ہونگے ،اپوزیشن کا احتجاج ،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

حکومت نے قانون سازی کا بھونڈا طریقہ اختیار کیا ،انتخابات سے چند ماہ قبل ایسا بل لیکر آنا پری پول دھاندلی ہے‘ قائد حزب اختلاف محمود الرشید غریب کی مخالفت اپوزیشن کا وطیرہ ،کل تک احتجاج کرنیوالوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جاتے تھے ،انکی منافقت اور عیاری سامنے آچکی ہے‘ رانا ثنا اللہ

جمعہ اپریل 17:25

ریگولرائز یشن آف سروس کنٹریکٹ بل کثرت رائے سے منظور ،ہزاروںکنٹریکٹ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پنجاب اسمبلی کے ایوان نے ریگولرائز یشن آف سروس کنٹریکٹ بل کثرت رائے سے منظور کر لیا جس کے تحت مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ہزاروںکنٹریکٹ ملازمین مستفید ہوںگے ،اپوزیشن نے بل کی منظوری کو پری پول دھاندلی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں،گواہوں کے تحفظ سے متعلق بل سمیت سات مسودات قوانین اور ایک آڈیننس بھی ایوان میں پیش کیا گیا جسے اسپیکرنے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا۔

پنجاب اسمبلی کااجلاس مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ 20منٹ کی تاخیر سے اسپیکر رانا محمد اقبال خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس میں رکن اسمبلی فوزیہ ایوب قریشی کی والدہ اور 65کی جنگ کے ہیرو عاشق بٹ کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی گئی ۔

(جاری ہے)

وقفہ سوالات کا آغاز ہونے سے قبل پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شنیلا روتھ کی جانب سے کورم کی نشاندہی کردی گئی ۔تعداد پوری نہ ہونے پر اسپیکر کی ہدایت پر پانچ منٹ گھنٹیاں بجائی گئیں تاہم کورم پورا نہ ہو سکا جس پر اجلاس 20منٹ کیلئے ملتوی کر دیا گیا ۔

45منٹ کے بعد اسپیکر نے دوبارہ ایوان میں آکر گنتی کرائی اور تعداد پوری ہونے پر اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہوا ۔ ایجنڈے پر موجود محکمہ ہائوسنگ اربن ڈویلپمنٹ سے متعلق سوالات متعلقہ وزیر اور پارلیمانی سیکرٹری کی عدم موجودگی کے باعث سوموار تک کیلئے ملتوی کر دئیے گئے ۔حکمران جماعت کے رکن اسمبلی رانا جمیل نے کہا کہ سب کے علم میں ہے کہ مجھے اغواء کیا گیا اور حکومت کی کاوشوں سے میری رہائی ممکن ہوئی ۔

سکیورٹی اداروں کی کارروائی میں دو اغواء کار مارے گئے جبکہ کچھ ابھی تک فرار ہیںاور مجھے ان کی جانب سے دھمکی آمیز کالیں موصول ہوتی ہیں۔میرے اوپر حملے کا خدشہ ہے لیکن اچانک چیف جسٹس کی جانب سے سکیورٹی واپس لینے کا حکم جا ری کردیا گیا ۔اسپیکر نے کہا کہ یہ آپ کا نقطہ اعتراض نہیں بنتا اسے ایوان کی کارروائی سے حذف کردیا جائے۔سرکاری کارروائی کے دوران حکومت نے پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس کا بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کیے بغیر ہی پاس کرلیا ۔

اس بل کی منظور ی سے پنجاب کے مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین مستفید ہوں گے ۔اپوزیشن کی جانب سے بل کی شدید مخالفت کی گئی اور بار بار کورم کی نشاندہی بھی کی گئی لیکن حکومت نے کورم پورا رکھا ۔بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دی گئیں۔قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے بل کے مخالفت کرتے ہوئے کہا حکومت نے قانون سازی کا بھونڈا طریقہ اختیار کیا ۔

انتخابات سے صرف چند ماہ قبل ایسا بل لے کر آنا پری پول دھاندلی ہے۔اپنی اکثریت ہونے کی وجہ سے حکومت ایسے غیر آئینی و غیر قانونی طریقے اختیار کررہی ہے۔بل کو پہلے قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جانا چاہیے تھا ۔میاں اسلم اقبال نے کہا یہ بل اپنے ورکرز کو مستقل کرنے کیلئے لایا گیا ہے ۔اس بل کے ذریعے یہ اپنے ووٹرز کو مستفید کرینگے اور ان کو ہی مستقل کریں گے ۔

وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا کہ غریب عوام کی مخالفت کرنا اپوزیشن کا وطیرہ بن چکا ہے ،کل تک یہ لوگ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جاتے تھے ہم نے ان کے حق میں یہ بل پاس کیا ہے تو احتجاج کر رہے ہیں۔ان لوگوں کی منافقت اور عیاری سب کے سامنے آچکی ہے۔اس بل کے مطابق جو ملازمین چار سال سے کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں صرف ان کو مستقل کیا جائے گااور اگر متعلقہ محکمے میں سیٹ خالی ہوئی اور وہ تب ہی مستقل ہوں گے ۔

یہ لاکھوں لوگوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔حکومت کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ریگولیشن سائو نڈ سسٹمز پنجاب کا آڈیننس بل، دھماکہ خیرمواد،تحفظ گواہ پنجاب،،گورنمنٹ سرونٹس ہائوسنگ فائو نڈیشن ،،پنجاب دوسری ترمیم رجسٹریشن ،ترمیم ماہی پروری،بانڈڈ لیبر سسٹم اور ایگریکلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی کے مسودات ایوان میں پیش کردئیے جنہیں اسپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کرتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس پیر دوپہر دوبجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔