انڈس ہسپتال کا اورنگی میں بڑا ہسپتال بنانے کا اعلان

جمعہ اپریل 17:29

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) مختلف این جی اوز اور سابق ناظمین کے ایک وفد نے جس میں ڈاکٹر شکیل،ممتاز، این جی اوز کے نمائندوں شفیق احمد ، نذیر بہاری، اینٹی کرائم کے صدر ابرار صدیقی شامل ہیں، نے پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی محمد رضوان خان سے ملاقات کی۔ جرمن اسکول (نارویجن)کے سلسلے میں انڈس اسپتال کے قیام کے سلسلے میں ان سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس کام کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر نے انہیں بتایا کہ اس سلسلے میں چیئرمین اراضیات کمیٹی سید ارشد حسن سے بھی گفتگو ہو چکی ہے ، میئر کراچی کا بھی ویژن کلیئر ہے کہ عوامی مفاد عامہ کے کاموں کو ترجیح کے ساتھ سر انجام دیا جائے۔ کراچی اتحاد ویلفیئر موومنٹ ۔ سابق ناظم ڈاکٹر شکیل ، اورنگی ویلفیئر ایسوسی ایشن ، اینٹی کرائم فار ہیومن رائٹس کے ابرار صدیقی بھی ملاقات میں شامل تھے۔

(جاری ہے)

ڈا کٹر عبدالباری خان چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بلدیہ عظمی کراچی کو اورنگی کے عوام کو بڑا اسپتال دینے پر راضی ہوچکی ہے جس میں مفت ہیلتھ کیئر، کمیونٹی ہیلتھ، پبلک ہیلتھ اسپورٹس سینٹر، فزیکل اینڈ مینٹل رہی یبیلیٹیشن سینٹر، habilitataion Re-، کارڈیک ، گائنی، نیفرولوجی، پیڈز وارڈ، سرجری، فیملی میڈیسن ، بلڈ سینٹر، ایمرجنسی میڈیکل سینٹر، آئی سی یو، سی سی یو، این آائی سی یوکنسلٹنگ کلینکس کے شعبہ جات انڈس اسپتال میں ہوں گے۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی نے وفد کو آگاہ کیا کہ نارویجن کی ٹرسٹ انتظامیہ جو میڈیکل ایجوکیشنل ، ٹیکنکل اینڈوومنٹ ٹرسٹ کے نام سے کام کر رہی ہے وہ ایک طویل عرصے سے نارویجن پر سروس نہیں دے رہی ۔یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔متنازعہ زمین کا فیصلہ عدالتی حکم کے مطابق طے کیا جائے گا۔ یہاں سے تجاوزات ختم کی گئی ہیں اور انکی لیزوں کو منسوخی کے لئے عدالت سے رجوع کیا جا چکا ہے ۔

انڈس اسپتال کے لئے میئر کراچی کو سمری بھیجی جا رہی ہے کیونکہ میئر کراچی پہلے ہی اس طرح کے کاموں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔انڈس اسپتال کئی مرتبہ جا چکے ہیں ، قانونی موشگافیوں کو دور کرکے اسکا سنگ بنیاد انشاء اللہ میئر کراچی سے منظوری کے بعد انہی سے رکھوانے کی کوشش کی جائے گی۔پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہاکہ ہم نے زمینوں پر سے قبضے اسی لئے ختم کرائے ہیں۔

پوری لینڈ مافیا سیاسی سرپرستی میں ہمارے کاموں کو نکام اور جعلی من گھڑت درخواستوں سے اعلی عہدوں پر فائز افسران کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے ۔ لیکن ہم میئر کراچی کی سربراہی میں لینڈ گریبرز کے دبائو اور انکی جھوٹی درخواستوں کو خاطر میں نہ لاکر انشاء اللہ اورنگی کی تمام فلاحی زمینیں واگزار کرارہے ہیں ۔ گلشن ضیاء میں جعلی پروجیکٹس بند کرانے پر بھی مزاحمت کا سامنا ہے لیکن وہاں بھی انڈس یا دوسرے فلاحی اسپتال قائم کرنے کی تجویز میئر کراچی اور چیئرمین اراضیات کمیٹی کو پیش کریں گے۔

وفد نے اورنگی میں درپیش مسائل اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات پر توجہ مبذول کرائی جس پر پی ڈی اورنگی نے فوری ٹیم انکے ہمراہ روانہ کرکے بجلی نگر، پانچ نمبر، گلشن ضیاء ، مختلف علاقوں کو کلیئر کرادیا گیا۔جبکہ بڑے آپریشن کے لئے کے ایم سی کے محکمہ انسداد تجاوزات سے مدد کی درخواست کی گئی ہے اور جیسے ہی وقت دیا جائے گا ۔ چیئرمین ، وائس چیئرمین سے موصولہ اور این جی اوز و سابق ناظمین کی شکایات پر داتا نگر، باغ ارم ، دیہہ ہلکانی ، گلشن حبیب ، گلشن ضیاء کے مختلف بلاکس، مومن آباد بازار ، فٹ پاتھوں ، اکبر شہید چوک پر قائم رفاحی پلاٹ و کورین پر غیر قانونی تعمیرات کو ختم کیا جائے گا جس میں ضلعی انتظامیہ کی بھی مدد لی جا رہی ہے ۔

وفود نے میئر کراچی وسیم اختر کی تعریف کی اور ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی نے میئر کراچی اور چیئرمین اراضیات کمیٹی کی جانب سے ڈاکٹر عبدالباری چیف ایگزیکٹو آفیسر انڈس اسپتال سے پیشکش پر اظہار تشکرکیا۔