18-19ء کیلئے سرکاری شعبے میں ترقیاتی پروگرام کے نمایاں نکات

جمعہ اپریل 18:51

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) آئندہ مالی سال2018-19ء کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا مجموعی حجم 20کھرب 43 ارب روپے ہے جس میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کا حجم 10 کھرب 30 ارب روپے اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ 10 کھرب 13 ارب روپے ہے، غیر ملکی امداد کا حصہ ایک کھرب 71 ارب روپے ہے۔ 2018-19ء کیلئے سرکاری شعبے میں ترقیاتی پروگرام کے نمایاں نکات یہ ہیں:۔

�وا بازی ڈویژن کیلئے 4677.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �رمایہ کاری بورڈ کیلئے 125 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �ابینہ ڈویژن کیلئے 1116.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �ٓبی وسائل ڈویژن کیلئے 79500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ * کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کیلئے 15236.9 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

�وسمیاتی تبدیلی ڈویژن کیلئے 802.6 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

�امرس ڈویژن کیلئے 1500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ * مواصلات ڈویژن (علاوہ این ایچ ای) کیلئی 14480.8 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �فاع ڈویژن کیلئے 640.6 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �فاعی پیداوار ڈویژن کیلئی 2810 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �قتصادی امور ڈویژن کیلئے 70 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ * وفاقی تعلیم و پیشہ وارا نہ تربیت ڈویژن کیلئے 4336.5 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

�سٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لئے 175.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �نانس ڈویژن کیلئے 18151.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �ارجہ امور ڈویژن کیلئے 199.7 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �ائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 46679.9 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ہائوسنگ و تعمیرات ڈویژن کیلئے 5433.1 ملین روپے رکھے کئے گئے ہیں۔ �نسانی حقوق ڈویژن کے لئے 300 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

�نعت و پیداوار ڈویژن کے لئے 1775.2 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �طلاعات و نشریات ڈویژن کیلئے 1664 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ * انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام ڈویژن کیلئے 3046.3 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ * بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کیلئے 3552.5 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �اخلہ ڈویژن کیلئے 24207.8 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ * امور کشمیر و گلگت بلتستان ڈویژن کیلئے 51205.6 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

�انون و انصاف ڈویژن کیلئے 1025 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ میری ٹائم افیئرز ڈویژن کیلئے 10118.6 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �نسداد منشیات ڈویژن کیلئے 251.2 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ * قومی غذائی تحفظ اور تحقیق ڈویژن کیلئے 1808 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ * نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز و کوآرڈینیشن ڈویژن کیلئے 25034.4 روپے رکھے گئے ہیں۔ * قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے لئے 550.5 ملین روپے مختص کئے گئے۔

* پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کیلئے 30424.5 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ * پاکستان جوہری ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے 300 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن کیلئے 943.1 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ * پلاننگ، ڈویلپمنٹ اور اصلاحات ڈویژن کے لئے 27590.1 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ �وسٹل سروسز ڈویژن کیلئے 370 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �ماریات ڈویژن کیلئے 200 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

�یلوے ڈویژن کیلئے 40000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ * مذہبی امور اور بین العقائد ہم آہنگی کے لئے 36 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �یونیو ڈویژن کیلئے 2558.9 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ * سائنس و ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کیلئے 2660 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �پارکو کے لئے 4700 ملین روپے مختص کئے گئے۔ * ریاستیں و سرحدی علاقہ جات ڈویژن کیلئے 2855.5 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

�یکسٹائل انڈسٹری ڈویژن کیلئے 280 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �ٓبی وسائل ڈویژن کیلئے 79500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ * کارپوریشنز کی مد میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیلئے 201600 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �ین ٹی ڈی سی/پیپکو کیلئے 36125 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں وزیراعظم گلوبل ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام کیلئے کے لئے 5000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

سی پیک منصوبہ جات کی تکمیل کیلئے خصوصی فراہمی کی مد میں 5000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ * فاٹا 10 سالہ منصوبہ (وفاقی حصہ) کیلئے 10,000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �یرا کیلئے 8500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ آئندہ حکومت کی طرف سے نئے منصوبہ جات کیلئے مختص کردہ مجموعی رقوم کی مد میں ایک لاکھ ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ * آئی ڈی پیز کی امداد و بحالی کے لئے 45000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ �یکورٹی میں اضافہ کیلئے 45000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم کے یوتھ اقدام کے لئے 10, 000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ * گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ فنڈ کے لئے 5000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پی پی پی موڈ فنانسنگ (آئوٹ سائیڈ بجٹ)) کیلئے 1,00000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔