پختونوں کے خلاف متعصبانہ رویہ ترک کر کے امن و آشتی کو فروغ دیا جائے، میاں افتخار حسین

جمعہ اپریل 18:54

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے تعلیم اور عدم تشدد کے بڑا کوئی ہتھیار نہیں، جمہوریت اورسیاست خصوصاً موجودہ حالات میں جبکہ پوری قوم متعددخطرات سے دوچارہے نوجوان نسل کی ذمہ داریاں دوچند ہو جاتی ہیں۔پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلباء اپنی روایات اورتاریخ کو سامنے رکھ کراپنی اجتماعی ذمہ داریوں کااحساس اورادراک کریں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی گولڈن جوبلی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے رہنما افراسیاب خٹک اور مردان کے ضلع صدر حمایت اللہ مایار نے بھی تقریب سے خطاب کیا ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پارٹی کا ہراول دستہ اور اے این پی کی نرسری کاکرداراداکیا ہے، باچا خان کا فلسفہ ہے کہ نوجوانوں پر محنت کرکے کارآمد شہری بنایاجائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں طلباء کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دی اور آئندہ بھی طلباکے حقوق کیلئے بھرپور آواز اٴْٹھائیں گے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دل اسلام آباد میں پختونوں کا تاریخی اجتماع خوش آئند اور لائق تحسین ہے اگر پختون اپنے حقوق کیلئے ہم آواز ہو جائیں تو مشکلات آسان ہو سکتی ہیں،انہوں نے کہا کہ باچا خان نے اپنی سوچ اور فکر کے ذریعے پختونوں کی ایسی رہنمائی کی جو تا آخر مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان نے قوم کو غلامی سے آزاد کرانے کیلئے جدوجہد کی اور آزادی کیلئے ضرورتِ علم کو محسوس کرتے ہوئے بے شمار سکول قائم کئے ،اور قلم کے فلسفے کے ذریعے انگریز کو نکال کر قوم کو آزادی دلائی ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا وہ شخصیت تھے جن کی وفات پر تین ملکوں نے اپنے پرچم سرنگوں کئے ،،باچا خان بابا نے پختونوں کو ایک ایسی جِلا بخشی کہ وہ اتحاد و اتفاق کی مثال بنے اور یہی وجہ تھی کہ انتہائی کم عرصہ میں ان کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے عدم تشدد کا فلسفہ اسی لئے دیا کہ ماضی میں پختونوں کی تاریخ میں لڑائی جھگڑوں اور بزور طاقت حکمرانی کی جاتی رہی لہٰذا باچا خان نے قوم میں شعور اجاگر کرنے کیلئے قلم کا سہارا لیا ، اسی طرح جو اقتصادی نظام باچا خان نے دیا اس میں سماجی انصاف بنیادی نکتہ تھا تاکہ سب کو برابری کی بنیاد پر حق ملنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ پختونوں کو ہر دور میں تعصب کا نشانہ بنایا گیا اور حالیہ دور میں پختونوں کے شناختی کارڈز کی بندش اس بات کا واضح ثبوت ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم تمام قومیتوں کی قدر اور ان کی حیثیت تسلیم کرتے ہیں لیکن مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ پختونوں کے خلاف متعصبانہ رویہ ترک کر کے امن و آشتی کی فضا کو فروغ دیا جائے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختون اس ملک کے شہری ہیں لہٰذا ان کی حیثیت تسلیم کر کے انہیں بے جا تنگ کرنے گرفتاریاں کرنے اور ان کی شناخت چھیننے سے گریز کیا جائے اور یہی اس ملک و قوم کے مفاد میں ہے،،اٹھارویں ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہ اٹھارویں ترمیم باچا خان کے پیروکاروں کی فتح ہے اور ہم اپنی فتح کسی کی جھولی میں نہیں ڈالیں گے،انہوں نے کہا کہ اب یہ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ اٹھارویں ترمیم رول بیک کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ سی پیک میں صوبے کا حق نہ ملا تو یہ پختونوں کا معاشی قتل ہوگا ۔