سینٹرل جیل سے دہشتگرد فرار کیس ، سابق جیل سپرنٹنڈنٹ غلام مصطفی شیخ کی ضمانت 10 لاکھ روپے کے عوض منظو ر

جمعہ اپریل 19:02

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) سندھ ہائیکورٹ نے سینٹرل جیل سے 2 خطرناک دہشتگردوں کے فرار سے متعلق دائر مقدمے میں نامزد سابق جیل سپرنٹنڈنٹ غلام مصطفی شیخ کی ضمانت 10 لاکھ روپے کے عوض منظو کرلی۔۔عدالت نے وزارت داخلہ کو ملزم غلام مصطفی شیخ کا نام ایی سی ایل میں شامل کرنے کی بھی ہدایت کردی۔جمعے کو سندھ ہائی کورٹ میں سینٹرل جیل سے 2 خطرناک دہشتگردوں کے فرار ہونے سے متعلق دائر مقدمے کی سماعت ہوئی۔

۔عدالت نے مقدمے میں سابق جیل سپرنٹنڈنٹ غلام مصطفی شیخ کی جانب سے دائر درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔۔۔عدالت نے ملزم غلام مصطفی شیخ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے وزارت داخلہ کو حکم دیا کہ ملزم کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے۔

(جاری ہے)

۔مقدمے کی سماعت کے دوران پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ جیل سپرنٹنڈنٹ جیل تفتیش میں ان سے تعاون نہیں کررہے ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت کو تفتیشی افسر نے بتایا کہ جیل میں پوری مافیا تھی، رقوم سیاسی لیڈرشپ کو جاتی تھی، جیل حکام اپنے پیٹی بند بھائیوں اور مافیا کو سپورٹ بھی کرتی رہیں ہیں۔۔تفتیشی کا مزید کہنا تھا کہ ریکارڈ مانگنے کے باوجود ہم سے تعاون نہیں کیا گیا، مداخلت کے آئی جی جیل خانہ جات کو بھی خط لکھا گیا۔۔حکام کا موقف سننے کے بعد عدالت نے ریماکس دیئے کہ عدالت شواہد پر یقین رکھتی ہے، عدالت کو لکھ کردیا جائے کہ سیاسی مداخلت کی گئی تھی، عدالت کا شواہد پیش نہ کرنے پر تفتیشی افسر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ جیل توڑنے پر سب پر مقدمات قائم کیے گئے، 3 ماہ بعد مشیر نامہ بنایا گیا، کیا قانون کا پتہ نہیں یا پھر قانون پڑھنے کی زحمت تک نہیں کی گئی۔

۔عدالت کا مزید کہنا تھاکہ شواہد اکھٹے کرنے کے بجائے مقدمات میں سب کو ڈالا گیا، شواہد اور قانونی کارروائی کون پوری کرئے گا،، مقدمات درج کنے کے طریقہ کار سے ملزمان کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔۔واضح رہے کہ 18 جون 2017کو شیخ ممتاز اور محمد احمد خان نامی دو قیدی جیل انتظامیہ کی لاپرواہی کے باعث فرار ہوئے تھے