گورنر سٹیٹ بنک طارق باجوہ کی تعیناتی چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ،ْ بیرسٹر خرم لطیف کے دلائل مکمل

اسلام آباد ہائی کورٹ میں اگلی سماعت پر گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کے وکیل دلائل دیں گے عدالت غیر قانونی طور پر تعینات گورنر سٹیٹ بنک کی تقرری کو کالعدم قرار دے ،ْ بیرسٹر خرم لطیف کی استدعا

جمعہ اپریل 19:12

گورنر سٹیٹ بنک طارق باجوہ کی تعیناتی چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ میں گورنر سٹیٹ بنک طارق باجوہ کی تعیناتی چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر خرم لطیف کھوسہ نے دلائل مکمل کئے، اگلی سماعت پر گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کے وکیل دلائل دیں گے۔ جمعہ کو جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سینیٹر تاج حیدر سمیت مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے 22 سینیٹرز کی جانب سے گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔

22 سینیٹرز کی جانب سے بیرسٹر خرم لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ گورنر اسٹیٹ بنک کا تقرر آئینی طور پر صدر پاکستان نہیں کر سکتا۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد گورنر سٹیٹ بنک کی تقرری کا اختیار وزیراعظم یا کابینہ ڈویژن کو منتقل ہوا ہے، گورنر سٹیٹ بنک کی تقرری میں مسابقتی عمل کو نظرانداز کیا گیا، بیرسٹر خرم لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ عدالت غیر قانونی طور پر تعینات گورنر سٹیٹ بنک کی تقرری کو کالعدم قرار دے۔

(جاری ہے)

طارق باجوہ سے زیادہ قابل اور لائق شخصیات پاکستان میں موجود ہیں۔وکیل درخواست گزار بیرسٹر خرم لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں ،ْ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت میں گورنر سٹیٹ بنک طارق باجوہ کے وکیل دلائل دیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 10 مئی تک ملتوی کردی۔