ْوفاقی حکومت نے بنیادی ڈھانچے کے شعبہ کی ترقی کیلئے ایک ارب70کروڑ روپے کے فنڈزمختص کر دئیے

گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے ایک ارب ،حج ڈائریکٹوریٹ پشاور میں رہائشی بلاک کی تعمیر کیلئے 3 کروڑ 60 لاکھ ،اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور اور کوئٹہ میں ایچ ڈی آئی پی کی ٹیسٹنگ سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے 5 کروڑ روپے مختص کئے گئے

جمعہ اپریل 19:29

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19ء کیلئے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت بنیادی ڈھانچے کے شعبہ کی ترقی کیلئے ایک ارب70کروڑ روپے کے فنڈزمختص کئیہیں۔ جمعہ کو پی ایس ڈی پی کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران فنانس ڈویژن کے فنانشل انکلیوژن اینڈ انفراسٹرکچر پراجیکٹ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 14ارب31کروڑ81 لاکھ80 ہزار روپے لگایا گیا ہے ۔

یہ منصوبہ غیرملکی امداد سے مکمل کیا جائے گا جس کیلئے قبل ازیں 8ارب42کروڑ90 لاکھ 80 ہزار روپے کے فنڈزجاری کئے جاچکے ہیں اور یہ منصوبہ آئندہ مالی سال کے دوران مکمل کرلیا جائے گا۔آئندہ مالی سال 2018-19ء کیلئے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے ایک ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

پی ایس ڈی پی کے مطابق گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مختلف منصوبوں پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 25 ارب روپے ہے اور قبل ازیں ان منصوبوں کیلئے 8 ارب 42کروڑ90 لاکھ80 ہزار روپے کے فنڈز جاری کئے جاچکے ہیں جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران جی ڈی اے کے لئے ایک ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت وزارت مذہبی امور کیلئے 3 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد رقم مختص کئے گئے ہیں۔ جمعہ کو جاری کئے جانے والے پی ایس ڈی پی 2018-19ء کے تحت حج ڈائریکٹوریٹ پشاور میں رہائشی بلاک کی تعمیر کیلئے یہ رقم مختص کی گئی ہے۔سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت پٹرولیم ڈویژن کی نئی اور جاری سکیموں کیلئے 94 کروڑ 31 لاکھ روپے سے زائد مختص کئے گئے ہیں۔

جمعہ کو جاری کئے جانے والے پی ایس ڈی پی 2018-19ء کے تحت اسلام آباد،، لاہور،، ملتان،، پشاور اور کوئٹہ میں ایچ ڈی آئی پی کی ٹیسٹنگ سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے 5 کروڑ روپے، بلوچستان میں کوئلہ کی تلاش کیلئے ایک کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد اور چار ڈرلنگ رگز کی خریداری پر 41 کروڑ 65 لاکھ روپے سے زائد خرچ کئے جائیں گے۔