دہشت گردی کیخلاف جنگ ،ْپاکستان کو 103 کھرب 73 ارب کا نقصان ہوا

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاکستان نے دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا

جمعہ اپریل 19:31

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پاکستان دہشت گردی کے واقعات میں 2010 سے اب تک 103 کھرب 73 ارب 93 کروڑ روپے کا نقصان کر چکا ہے جو اجمعہ کو پیش ہونے والے بجٹ کی تقریباً دوگنی رقم ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2001 سے لے کر 2002 تک پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک کھرب 63 ارب 90 کروڑ روپے خرچ کیے۔2002 سے 2003 کے دوران ایک کھرب 60 ارب 80 کروڑ روپے، 2003 سے 2004 تک ایک کھرب 68 ارب 80 کروڑ روپے، 2004 سے 2005 کے دوران 2 کھرب 2 ارب 40 کروڑ روپے، 2005 سے 2006 تک 2 کھرب 38 ارب 60 کروڑ روپے جبکہ 2006 سے 2007 کے درمیان 2 کھرب 83 ارب 20 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاکستان نے دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا۔ملک کو دہشت گردی کی وجہ سے 2007 سے 2008 کے دوران 4 کھرب 34 ارب 10 کروڑ روپے، 2008 سے 2009 کے دوران 7 کھرب 20 ارب 60 کروڑ روپے، 2009 سے 2010 کے دوران 11 کھرب 36 ارب 40 کروڑ روپے، 2010 سے 2011 کے دوران سب سے زیادہ 20 کھرب 37 ارب 33 کروڑ روپے، 2011 سے 2012 کے دوران 10 کھرب 52 ارب 77 کروڑ روپے اور 2012 سے 2013 کے دوران 9 کھرب 64 ارب 24 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

(جاری ہے)

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردی کی وجہ سے 2013 سے 2014 کے دوران 7 کھرب 91 ارب 52 کروڑ روپے، 2014 سے 2015 کے دوران 9 کھرب 36 ارب 30 کروڑ، 2015 سے 2016 کے درمیان 6 کھرب 75 ارب 76 کروڑ روپے اور 2016 سے 2017 کے درمیان 4 کھرب 7 ارب 21 کروڑ روپے کا پاکستان کو نقصان ہوا۔