مسلم لیگ کا ’’ن‘‘ نااہلی کا ’’ن‘‘ بن چکا ہی: حافظ حسین احمد

سیاستدانوں پرنااہلی کی تلوار اب چلتی رہے گی،خواجہ کے بعد کسی اور کی باری ہے ،نواز شریف کا میڈیا کے سامنے اوپن ٹرائل ہوتاکہ قوم حقائق سے آگاہ ہوسکے،سید خورشید شاہ کا این آر او کے حوالے سے بیان آدھا صحیح ہے پورا سچ نہیں،اگراین آر او نہ ہوتا تو شہیدمحترمہ بینظیر بھٹو آج زندہ ہوتی،ملک میں سیاسی بحران اس وقت تھمے گا جب ’’ نگران‘‘آئیں گے،میڈیا سے گفتگو

جمعہ اپریل 19:51

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) متحدہ مجلس عمل کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ اورجمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ مسلم لیگ کا ’’ن‘‘ نااہلی کا ’’ن‘‘ بن چکا ہے، سیاستدانوں پراب نااہلی کی تلوار چلتی رہے گی، نواز شریف کے ساتھ جہانگیر ترین کو بیلنس کیا گیااب دیکھا جائے کہ خواجہ آصف کے ساتھ کس کو بیلنس کیا جاتا ہے۔

وہ جمعہ کے روز صحافیوں کے وفد سے گفتگو کررہے تھے ۔

(جاری ہے)

حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ خواجہ آصف کی نااہلی کے بعد نواز شریف کو اپنے بیانیے میں مشکلات ہونگی کیوں کہ خواجہ آصف کا اقامہ بیٹے کا نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ اب تک بیلنس ہوتا ہوا نظر آرہا تھا نواز شریف کے ساتھ جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ خواجہ آصف کے ساتھ بیلنس کرنے کے لیے کون مائنس ہوتاہے ، انہوں نے نواز شریف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف پر وہی مقدمات چل رہا ہیں لیکن عدالت میں کچھ کہا جاتا ہے اور باہر کچھ اور کہا جاتا ہے اس لیے نواز شریف کے مطالبے کہ تحت ان کا میڈیا کے سامنے اوپن ٹرائل کیا جائے تاکہ قوم کو پتہ چلے کہ اصل حقائق کیا ہیں اور یہی بات عدالت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً 5سال سے سیاسی بحران جاری ہے نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی مگر مسلم لیگ کی حکومت چل رہی ہے البتہ یہ بحران اس وقت تھمے گا جب ’’نگران ‘‘ آئیں گے ، حافظ حسین احمد نے کہا کہ خورشید شاہ نے این آر او کے حوالے سے جو بیان دیا ہے وہ آدھا صحیح ہے ان کو پورا سچ کہنا چاہئے تھا خورشید شاہ کہتے ہیں کہ اگر این آر او نہ ہوتا تو جج جیل میں ہوتے اور ہم کہتے ہیں کہ این آر او نہ ہوتا تو شہید محترمہ بینظیر بھٹو آج زندہ ہوتی این آر او کی ہی وجہ سے محترمہ کا یہ انجام ہوا ہے، جماعت اسلامی کی جانب سے کے پی کے حکومت چھوڑنے کے اعلان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میںکہا کہ ہمیں بھی اللہ ہمت دیگا البتہ مولوی آخری دم تک ساتھ دیتے ہیں بلکہ آخری رسموات ان ہی کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں دفنانے کے بعد چہلم تک مولوی ساتھ نبھاتے ہیں،متحدہ مجلس عمل کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ نے مزیدکہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر علامہ ابوالخیر زبیر، ملی مسلم لیگ کے رہنما امیر حمزہ، مشائخ پیر سید ہارون گیلانی،پیر گوریجا، ضیاء اللہ شاہ بخاری، ڈاکٹر عبدالروف اورنگزئی، علامہ ابو شریف ودیگرسے ایم ایم اے کے حوالے سے گفتگو اطمینان بخش رہی ہے اور رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے ان تمام رہنماؤں نے عالمی اسلام کے اتحاد اور ملی یکجہتی کے لیے کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔