مقبوضہ کشمیر میں قابض افواج کاآصفہ قتل کیس کیخلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والے طلباء پر تشدد ‘ریاستی طاقت کا استعمال‘ طلبہ کی گرفتاریاں اور طلباء کے خلاف بدنام زمانہ اور کالے قوانین کے تحت مقدمات کا اندراج قابل مذمت ہے

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شگفتہ نورین کاظمی کی میڈیا سے گفتگو

جمعہ اپریل 19:59

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شگفتہ نورین کاظمی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے آصفہ قتل کیس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والے طلباء پر وحشیانہ تشدد ،ریاستی طاقت کا استعمال،طلبہ کی گرفتاریاں اور طلباء کے خلاف بدنام زمانہ اور کالے قوانین کے تحت مقدمات کا اندراج قابل مزمت ہے یونیورسٹیز اور کالجزکے طالباء کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات بھارت کی بوکھلاہٹ اور انتقام کا منہ بولتا ثبوت ہے بھارت کشمیریوں کی نسل کشی میں معروف ہے عالمی برادری نوٹس لے میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا کہناتھا کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین ،بچے بوڑھے، جوان،سب ہی بھارتی دہشت گردی کا شکار ہیں ہندوستانی نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور بچوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کررکھا ہے کشمیر کے اندر دس ہزار غرت ماآب خواتین کی آبرو ریزی کی گئی ہے 8سالہ معصوم بچی آصفہ کو جنسی درندگی کا نشانہ بنا کر اس کا وحشیانہ انداز میں قتل کیا گیا لیکن عالمی برادری خاموش ہے عالمی برادری کے دوہرے معیار کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کا امن داؤ پر لگ گیا ہے اور کرڑوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرات لائق ہو گئے ہیں