دنیا کی کوئی بھی قوت پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو کمزور نہیں کرسکتی، صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی

عالم اسلام کے مسائل کے حل کیلئے امت مسلمہ کواتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے،چیرمین مرکزی علماء کونسل

جمعہ اپریل 20:32

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پاکستان ، سعودی کے تعلقات اخوت ،محبت اور ایمان کے رشتے پر قائم ہیں۔۔دنیا کی کوئی بھی قوت پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو کمزور نہیں کرسکتی۔۔سعودی عرب کیخلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے والی قوتیں حرمین الشریفین کے امن کو تباہ کرناچاہتی ہیں۔عالم اسلام کے مسائل کے حل کیلئے امت مسلمہ کواتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

داعش جیسی تنظیموں کے نظریات کے مقابلہ کیلئے مسلم ممالک کو مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔ دنیا میں قیام امن ، رواداری کے فروغ کیلئے مسلم ممالک میںبیرونی مداخلتوں کوروکنا ہوگا۔ شام،،عراق،، فلسطین ،کشمیر سمیت دیگر ممالک میں مسلمانوں کے بہنے والے خون کو روکنے کیلئے عالمی دنیاکو اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

امت مسلمہ سعودی عرب کے دفاع وسلامتی اور حرمین الشریفین کے تحفظ کیلئے کسی سازش کو برداشت نہیں کرے گی۔

یہ بات مرکزی علماء کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے جامع مسجد گول میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستانی قوم سب سے پہلے اس کی مدد کرے گی۔ عالم اسلام میں پاکستان جس طرح ایک بڑی طاقت ہے اس طرح سعودی عرب حرمین الشریفین کی وجہ سے قابل احترام ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔

پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور افواج پاکستان نے ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کو کامیاب بناتے ہوئے دہشت گردوں کو شکست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن قوتیںمسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنانا چاہتی ہیںاور اس کیلئے مسلمانوں کے دلوں میں سعودی عرب کی محبت کو ختم کرنے کیلئے منفی پروپیگنڈہ کررہی ہیں ۔

حرمین الشریفین سے مسلمانوں کے دل جڑے ہوئے ہیں۔ عالمی دنیا کو غیر جانبدار رہتے ہوئے مسلم ممالک میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی اور دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار داکرنا چاہئے۔ انہوں نے کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز پر ہونے والے خود کش حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردوں کیخلاف پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ جمعہ کے اجتماع میں مطالبہ کیا گیا کہ شب برأت کے موقع پر مساجد ،مدارس اور تمام مکاتب فکر کی عبادتگاہوں اور مذہبی اجتماعات کو فول پروف سیکورٹی مہیا کی جائے ۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم کے بعد ابھی تک حساس مقامات پر سیکورٹی فراہم نہ کرنا ایک بہت بڑا سیکورٹی رسک ہے ۔خدانخواستہ کہیں بھی کوئی ناخوشگوار پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔