سرکاری سکولوں کے زیر التواء منصوبوں کے لیپس ہونیوالے بقایا فنڈز کی بحالی کا مسئلہ 9ماہ بعد بھی حل نہ ہو سکا،

جمعہ اپریل 20:43

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) مالی سال2016-17کے تحت سرکاری سکولوں کے زیر التواء منصوبوں کے لیپس ہونیوالے بقایا فنڈز کی بحالی کا مسئلہ 9ماہ بعد بھی حل نہ ہو سکا، جس کے باعث لگ بھگ 120سے زائد سکیموں پر کام مکمل طور پر ٹھپ پڑا ہے ،اور فنڈز کے اجراء میں تاخیر ان کے تخمینہ جات پر اثرانداز ہونے لگی ہے، ذرائع کے مطابق ضلعی ترقیاتی پروگرام2016-17کے تحت حکومت پنجاب کی طرف سے سرگودھا کے سکولز سیکٹر میں بنیادی سہولیات کی سینکڑوں سکیموں کیلئے 35کروڑ26لاکھ 86ہزار روپے جاری کئے تھے جن کا شیڈول کے مطابق استعمال نہیں ہو سکا اور ضلعی افسران کی غفلت کے باعث 11کروڑ9لاکھ روپے کے فنڈز جون 2017میں لیپس ہو گئے ، جن کے دوبارہ اجراء کیلئے متعدد مرتبہ کوششیں کی جا چکی ہے تاہم مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے ،یہی نہیں متذکرہ ترقیاتی سکیموں پر اب کام مکمل طور پر ٹھپ پڑا ہے ،اور صورتحال ان کے تخمینہ جات پر اثرانداز ہو رہی ہے ،جبکہ بقایا فنڈز کا اجراء دور دور تک نظر نہیں آ رہا، ایجوکیشن حکام کا کہنا ہے کہ تمام تر کوششوں کے بعد اکائونٹ ڈیپارٹمنٹ سے معاونت حاصل کی گئی ہے ،فنڈز جاری ہوتے ہی عملدرآمد شروع کروادیا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :