مفتاح اسماعیل کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کابینہ کا ہے اور اس میں کوئی غیر آئینی بات نہیں ہے‘

ملک کا نظام چلانے کے لئے بجٹ پیش کرنا لازمی ہے‘ نئی حکومت آکر بجٹ اور فریم ورک کو تبدیل کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے‘ اس بجٹ میں عوام کے لئے ایسے اقدامات ہیں جو ماضی کے کسی بجٹ میں نہیں تھے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا قومی اسمبلی میں سید خورشید شاہ اور شاہ محمود قریشی کے نکتہ اعتراض پر اظہارخیال

جمعہ اپریل 21:19

مفتاح اسماعیل کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کابینہ کا ہے اور اس میں ..
اسلام آباد۔ 27اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کابینہ کا ہے اور اس میں کوئی غیر آئینی بات نہیں ہے‘ ملک کا نظام چلانے کے لئے بجٹ پیش کرنا لازمی ہے‘ نئی حکومت آکر بجٹ اور فریم ورک کو تبدیل کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے‘ اس بجٹ میں عوام کے لئے ایسے اقدامات ہیں جو ماضی کے کسی بجٹ میں نہیں تھے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قائد حزب اختلاف اور تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر کو جمہوریت اور آئین کا جو درد ہے اس کا بخوبی ادراک ہے۔

(جاری ہے)

بجٹ حکومت اور ملک کا نظام چلانے کے لئے لازمی ہوتا ہے جو حکومت آئے اس کے پاس یہ مکمل اختیار ہے کہ وہ بجٹ اور فریم ورک تبدیل کرلے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بجٹ میں پانچ سال کے لئے پروگرام بھی دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ بدقسمتی سے اگر اپوزیشن کی حکومت آبھی آگئی جو نہیں آئے گی‘ تو پھر بھی بجٹ میں تبدیلی ان کا حق ہے۔ ہم بھی دیکھیں گے کہ وہ کیا تبدیلی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کابینہ کا ہے۔ یہ کوئی غیر آئینی بات نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصول یہ ہوتا ہے کہ جو کوئی شخص بجٹ کی تیاری کرے وہ یہاں اس کو پڑھ کر سنائے۔ رانا افضل وزیر مملکت ہیں جبکہ وزیر خزانہ کا عہدہ میرے پاس تھا۔ یہ کاوش مفتاح اسماعیل کی ہے اس لئے وہ ہی بجٹ پیش کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن سے گزارش ہے کہ وہ تھوڑی ہمت پیدا کرکے بجٹ تقریر سنے۔ اس میں وہ اقدامات ہیں جو اس سے پہلے کسی حکومت نے نہیں کئے اس لئے برداشت کریں۔