کشکول توڑنے کے دعویداروں نے قرضوں میں 62فیصد اضافہ کیا‘ڈاکٹر طاہرالقادری

لوڈشیڈنگ کاخاتمہ، صاف پانی کی فراہمی اور صحت کی سہولتوں میں بہتری کا کوئی وعدہ پورا نہ ہوا‘سربراہ عوامی تحریک

جمعہ اپریل 21:29

کشکول توڑنے کے دعویداروں نے قرضوں میں 62فیصد اضافہ کیا‘ڈاکٹر طاہرالقادری
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اقتصادی سروے اور آئندہ بجٹ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ نااہلوں نے بجٹ پیش کر کے غیر جمہوری اور غیر اخلاقی حرکت کی،آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنا آئندہ منتخب حکومت کا مینڈیٹ تھا ،اس ضمن میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے موقف کو مسترد کر کے ووٹ اور تین صوبوں کے عوام کے مینڈیٹ کی کی بے عزتی کی گئی۔

انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشکول توڑنے کے دعویداروں نے مجموعی ملکی قرضوں میں 62 فیصد اضافہ کیا، قرضوں کے حجم کو 60فیصد سے نیچے رکھنے کی قانونی حد کو بلڈوز کیا، لوڈشیڈنگ کے خاتمہ، صاف پانی ،انصاف اور مفت تعلیم کی فراہمی کا کوئی ایک وعدہ پورا نہیں کیا، اشرافیہ نے پانچ سال اداروں کیخلاف سازشوں اور عیاشی کر تے گزارے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو پائوں پر کھڑا کرنے کے حوالے سے تمام دعوے کاغذی اور جھوٹ کا پلندا ہیں۔

2013 ء میں تجارتی خسارہ 16.6ارب ڈالر تھا جو آج 30ارب ڈالر سے بڑھ گیا، 2013 ء میں بجٹ خسارہ 5.5فیصد کے قریب تھا جو6فیصد سے بڑھ گیا،مجموعی ملکی قرضے جنہیں جی ڈی پی کے 60فیصد سے کم ہونا چاہیے تھا وہ 67فیصد سے تجاوز کر چکے ۔۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے مزید کہا کہ سوسائٹی کے کم آمدنی والے طبقات گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے بری طرح متاثر ہوئے۔2013 ء میں کم سے کم تنخواہ 10 ہزار روپے تھی جو پانچ سال کے بعد 15 ہزار روپے ہوئی جو مہنگائی کے مقابلہ کیلئے ناکافی اورمذاق ہے۔

موجودہ حکمرانوں کے خلاف سب سے زیادہ مظاہرے اس ملک کے کلرکوں، مزدوروں، کسانوں، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور نابینا افراد نے کیے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے معیشت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی،اس سے بڑی نااہلی اور کیا ہو گی کہ پانچ سال ملکی معیشت چلانے والے وزیر خزانہ آج مفرور ہیں اور ان میں اتنی اخلاقی اور قانونی جرأت بھی نہیں ہے کہ وہ اپنے اوپر عائد الزامات کا سامنا کر سکیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ وہ شہریوں کو پانچ سال میں پینے کا صاف پانی بھی فراہم نہ کر سکے۔