سیاسی قیادتوں کے غیر جمہوری رویوں کی وجہ سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے‘طاہر محمودا شرفی

ن) لیگ نے راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو عام نہ کیا تو الیکشن میں ان کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی ‘چیئرمین پاکستان علماء کونسل

جمعہ اپریل 21:29

سیاسی قیادتوں کے غیر جمہوری رویوں کی وجہ سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے‘طاہر ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ طاہر محموداشرفی نے کہاکہ سیاسی قیادتوں کے غیر جمہوری رویوں کی وجہ سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے ، حکومت نے ایک غیر منتخب شخص کو وزیر خزانہ بنا کر خود اپنے ممبران کی توہین کی ہے ، جمہوری قیادت آمر اور آمر جمہوری لیڈر بننا چاہتے ہیں ۔ یہ بات پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمودا شرفی نے پاکستان علماء کونسل کی انتخابی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

اس موقع پر مولانا عبد الحمید وٹو ، قاضی مطیع اللہ سعیدی ، مولانا محمد ایوب صفدر ، مولانا عبدالکریم ندیم ، مولانا اسعد زکریا، مولانا عبد الحمید صابری، مولانا شفیع قاسمی حاجی محمد طیب شاد قادری، مولانا طاہر عقیل اعوان بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کو کمزور کرنے میں سیاسی قیادتوں کا مرکزی کردار رہا ہے ، ایوب خان سے جنرل مشرف تک ہر ڈکٹیٹر کی حمایت پاکستان کی سیاسی قیادتوں نے کی ہے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے مسلسل وہی غلطیاں دہرائی جا رہی ہیں ، جس کے نتائج کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے ۔

انہوں نے کہا جو کام پارلیمنٹ اور انتظامیہ کے کرنے کے تھے آج چیف جسٹس کر رہے ہیں اور پوری قوم چیف جسٹس کی تائید کر رہی ہے اس لیے کہ مظلوموں کی دادرسی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والی جماعت نے آج غیر منتخب شخص کو وزیر خزانہ بنا کر ووٹ اور ووٹر دونوں کی توہین کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا مسلم لیگ (ن) میں کوئی ایک ممبر بھی ایسا نہیں ہے جو بجٹ پیش کر سکتا ۔

پاکستان علماء کونسل کے اراکین آئندہ انتخابات کی تیاری کریں ، ملک میں اپنے امیدواروں کے علاوہ ایسی جماعتوں اور امیدواروں کی حمایت کریں گے جو ہمارے نظریات کے قریب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو عام نہ کیا تو الیکشن میں مسلم لیگ کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی ۔