ایکسپورٹ کا ہدف حاصل نہ ہونے کے باعث تجارتی خسارہ میں اضافہ ہوا،میاں زاہد حسین

جمعہ اپریل 21:39

ایکسپورٹ کا ہدف حاصل نہ ہونے کے باعث تجارتی خسارہ میں اضافہ ہوا،میاں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہاہے کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی رواں مالی سال میںمجموعی طور پر کافی بہتر رہی جس پر وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ ترقیاتی کاموں اور سی پیک منصوبوں کی وجہ سے درآمدات میں کافی اضافہ ہوا اس کے برعکس برآمدات میںمطلوبہ ہدف سے 13فیصد کمی رہی، تجارتی خسارہ لگ بھگ 36بلین ڈالر رہے گا۔

میاںزاہد حسین نے مختلف نیوز چینلز اور بزنس کمیونٹی سے گفتگو میںکہا کہ رواں سال ترسیلات زر 14.6ارب ڈالر ہو چکی ہیں جبکہ 19ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔ بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح 6.33فیصد اور چھوٹی صنعتوں کی ترقی کی شرح 8.2فیصد ہے جو گزشتہ سالوں سے بہتر اور حوصلہ افزاہے۔

(جاری ہے)

دہشتگردی کے خاتمے، امن و امان کے قائم ہونے اور ملک کی بہتر معاشی کارکردگی کے باعث بیرونی سرمایہ کاری 2.6بلین ڈالر ہوئی جبکہ ابتر سیاسی صورتحال کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوسکا۔

روپے کی قدر میں کمی کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا لیکن دوسری طرف غربت میں 4فیصد کمی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوا، اور مہنگائی ہدف سے کم رہی۔ میاں زاہد حسین نے کیا کہ 2018-19کے بجٹ میں دفاع کے لئے 1010ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو رواں سال کے دفاعی بجٹ سے 10فیصد زیادہ ہے۔ پبلک سروس ڈولپمنٹ پروگرام کے لئے مختص رقم میں مجموعی طور پر18فیصد کمی کی گئی ہے۔

ملک میں کپاس کی پیداوار کے ہدف میں 8.9فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ لائیو اسٹاک میں ترقی کا ہدف 3.8فیصد رکھا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ خوش آئند ہے۔ ترقیاتی پراجیکٹس پر 1030ارب روپے خرچ کئے جائینگے جبکہ سبسڈیز کی مد میں 220بلین روپے خرچ کئے جائینگے، جس میں بجلی اور گیس کی چوری کی روک تھام ، ریلوے اور دیگر خسارے میں چلنے والے شعبو ں کی کارکردگی بہتر بناکرکمی کی جاسکتی ہے۔

صوبوں کو سماجی فلاح و بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خرچ کرنے کے لئے 2565بلین روپے دئے جائینگے جس میں ضیاع کو روکنے کے لئے صوبوں کو خوداحتسابی کا موثر نظام قائم کرنا ہوگا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ بزنس کمیونٹی توقع رکھتی ہے کہ سال 2018-19کا بجٹ بزنس کمیونٹی، انڈسٹریل ڈولپمنٹ، ایکسپورٹ پروموشن اور معاشی استحکام میں یقینی کردار ادا کرے گا۔ ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے انکم ٹیکس ریٹ میں کمی اور ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی سے کم افراد کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قراردیا جانا، قابل تعریف ہے۔اس ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے مستقبل قریب میں پاکستانیوں کی دولت ملک میں واپس آنے کے واضح امکانات موجودہیں۔