اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا وفد بنگلہ دیش اور میانمار کا (کل) دورہ کریگا

جمعہ اپریل 21:51

نیویارک ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا وفد (کل) بنگلہ دیش اور میانمار کا دورہ کر رہا ہے، جہاں وہ روہنگیا بحران کا جائزہ لینے کے بعد مہاجرین کے معاملے پر اپنا آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرے گا۔۔اقوام متحدہ کی کونسل کے دورے کا آغاز بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کے سب سے بڑے کیمپ کاکس بازار سے ہو گا جہاں اقوام متحدہ کے سفیر کیمپوں میں مقیم افراد سے ملاقات کریں گے۔

جس کے بعد کویت، برطانیہ اور پیرو سمیت دیگر ممالک کے نمائندوں پر مشتمل سکیورٹی کانسل کا وفد راکھین ریاست کا بھی دورہ کرے گا۔کویتی سفیر منصور العتیبی کا اس دورے کے حوالے سے کہنا ہے کہ اس کا اصل مقصد میانمار کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ بین الاقوامی کمیونٹی اس معاملے کو نہایت قریب سے نہ صرف دیکھ رہی ہے بلکہ اس مسئلے کے حل کی کوششوں میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔

(جاری ہے)

اٴْن کا مزید کہنا ہے کہ سات لاکھ لوگوں کو اپنا ملک چھوڑنا پڑا اور وہ اب واپس اپنے ملک نہیں جا سکتے، یہ انسانی المیہ ہے۔سلامتی کونسل کے ارکان اس چار روزہ دورے میں میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے بھی ملاقات کریں گے۔ سوچی کو راکھین کی صورتحال پر خاموشی کے باعث دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔۔میانمار اٴْس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا جب ملک کی ریاست راکھین میں بسنے والے روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف اگست سن 2017 میں ہوئے فوجی آپریشن کے بعد سے اب تک سات لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے اکثر اس وقت بنگہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں۔