وفاقی حکومت نے صحت کے شعبہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرائی ہیں، مفتاح اسماعیل

جمعہ اپریل 22:33

وفاقی حکومت نے صحت کے شعبہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرائی ہیں، ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) وفاقی حکومت نے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کیلئے صحت کے شعبہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرائی ہیں اور وزیراعظم کے قومی صحت پروگرام کو ملک کے تمام اضلاع تک وسعت دی جا رہی ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صحت کے شعبہ کو صوبوں کے حوالے کئے جانے کے باوجود وفاقی حکومت اس شعبہ میں اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی نہیں کر سکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب عوام کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کا اجراء کیا گیا جس کے تحت 30 لاکھ خاندانوں کو 41 اضلاع میں سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں سے صحت کی معیاری سہولیات بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا دائرہ ملک کے تمام اضلاع تک پھیلایا جا رہا ہے۔

اس پروگرام سے ہزاریہ ترقیاتی اہداف اور یونیورسل ہیلتھ کوریج کے اہداف کے حصول میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر صوبوں کے ساتھ مل کر نیشنل ہیپاٹائٹس سٹرٹیجک فریم ورک تیار کیا گیا۔ ہیپاٹائٹس کی دوا کو کم ترین سطح پر لایا گیا ار ملک میں اس کی ادویات کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں اور خواتین کے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کے تحت ویکسین کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا گیا اور اس کی سٹوریج اور ترسیل کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق آئی ایس او سے تصدیق شدہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی ادارہ صحت میں ویکسین کی تیاری کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کیا گیا اور عرصہ سے غیر فعال ویکسین کی تیاری کو بحال کیا گیا۔