یمن،حوثی ملیشیاعدالت نے 8 کارکنان کوعرب اتحاد سے وفاداری کے الزام پر سزائے موت سنا دی

جمعہ اپریل 22:29

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) یمنی دارالحکومت صنعاء میں حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول عدالت نے باغیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے 8 کارکنان کو سزائے موت سنا دی،مذکورہ افراد پرعرب اتحاد سے وفاداری کا الزام عائد کیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول عدالت نے باغیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے 8 کارکنان کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنایا ہے۔

ان افراد پر آئینی حکومت کی سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد سے وفاداری کا الزام تھا۔عدالت نے مذکورہ کارکنان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے البیضاء صوبے میں داعش اور القاعدہ تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ حوثی ملیشیا یہ الزام عموما اپنے مخاصمین پر عائد کرتی ہے۔دوسری جانب مغوی افراد کی ماؤں کی انجمن نے سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدلیہ کے نارمل دائرہ کار سے خارج ایک عدالت کی جانب سے جاری کیا گیا۔

(جاری ہے)

انجمن نے ایک بیان میں حوثی ملیشیا کی جانب سے عدلیہ کو سیاست سے آلودہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کی مذمت کی۔واضح رہے کہ حوثیوں نے ہزاروں افراد کو اغوا کر کے اپنی جیلوں میں ڈال رکھا ہے۔ ان میں انسانی حقوق کے کارکنان، صحافی، دانش ور اور بغاوت کے دیگر مخالفین شامل ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ان افراد کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور تشدد کا سامنا ہے۔

متعلقہ عنوان :