تاحیات نااہلی فیصلہ کرنا پارلیمنٹ کا کام تھا، ان کو میرے احتساب کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا، نواز شریف

میرے خلاف کرپشن کا کوئی کیس نہیں بن سکا، ان کوکوٹیکنا والے اور رینٹل پاور منصوبے میں اربوں روپے کھانے والے نظر نہیں آتے، جنرل (ر) پرویز مشرف کمردرد کا بہانہ بنا کر باہر بھاگ گیا اور اگلے دن پارٹی میں ڈانس کررہا تھا، مجھے اپنی بیمار اہلیہ کی تیمار داری کا موقع نہیں دیا گیا، ہمارے بینکوں کے پاس بجلی کے کارخانے لگانے کے پیسے تک نہ تھے، چینی صدر شی جن پنگ نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ سی پیک صرف آپ کیلئے تحفہ ہے، فیصلے کہیں اور ہوتے ہیںاوربے بس آپ ہوجاتے ہیں سابق وزیراعظم کا سرگودھا ڈویژن کے ارکان پارلیمنٹ اور ہنمائوں سے خطاب

جمعہ اپریل 22:40

تاحیات نااہلی فیصلہ کرنا پارلیمنٹ کا کام تھا، ان کو میرے احتساب کے ..
سرگودھا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ تاحیات نااہلی کے بارے میں فیصلہ کرنا پارلیمنٹ کا کام تھا، ان کو نواز شریف کے احتساب کے علاوہ کوئی بندہ نظر نہیں آرہا، میرے خلاف کرپشن کا کوئی کیس نہیں بن سکا، ان کو کو ٹیکنا والے اور رینٹل پاور منصوبے میں اربوں روپے کھانے والے نظر نہیں آتے، جنرل (ر) پرویز مشرف کمردرد کا بہانہ بنا کر باہر بھاگ گیا اور اگلے دن پارٹی میں ڈانس کررہا تھا، مجھے اپنی بیمار اہلیہ کی تیمار داری کا موقع نہیں دیا گیا، ہمارے بینکوں کے پاس بجلی کے کارخانے لگانے کے پیسے تک نہ تھے، چین کے صدر شی جن پنگ نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ سی پیک صرف آپ کیلئے تحفہ ہے، فیصلے کہیں اور ہوتے ہیںاور آپ بے بس ہوجاتے ہیں۔

(جاری ہے)

جمعہ کو سرگودھا ڈویژن کے ارکان پارلیمنٹ اور ہنمائوں سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ تاحیات نااہلی کے بارے میں فیصلہ کرنا پارلیمنٹ کا کام تھا، صرف مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کو نواز شریف کے احتساب کے علاوہ کوئی بندہ نظر نہیں آرہا، میرے خلاف کرپشن کا کوئی کیس نہیں بن سکا، کوٹیکنا اور رینٹل پاور میں اربوں روپے کھانے والے نظر نہیں آتے، ہم نے 10ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی۔

انہوں نے کہا کہ سنگین جرم میں ملوث مشرف ابھی بھی پارٹی کا صدر ہے، ہم نے ملک سے دہشت گردی کو ختم کیا، کسی میں مشرف کو بلانے کی جرات نہیں،ڈکٹیٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا تاریخی کام بھی ہم نے کیا، جنرل(ر))پرویز مشرف کمردرد کا بہانہ بنا کر باہر بھاگ گیا، اگلے ہی دن وہ پارٹی میں ڈانس کر رہا تھا جبکہ مجھے اپنی بیمار اہلیہ کی تیمارداری کا موقع نہیں دیا جاتا، میرا دل اور ضمیر کہتا ہے کہ یہ سب ظلم اور زیادتی ہے، نواز شریف نہ ہی پیچھے ہٹنا ہے اور نہ ہی جھکنا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے بینکوں کے پاس تو بجلی کے کارخانے لگانے کے پیسے تک نہ تھے، چین کے صدر شی جن پنگ نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ سی پیک صرف آپ کیلئے تحفہ ہے، فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں اور آپ بے بس ہو جاتے ہیں، یہ بے بسی آپ کو تو منظور ہو سکتی ہے، مجھے ہرگز نہیں، میرا ضمیر نہیں مانتا کہ گھر بیٹھ جائوں اور شکست تسلیم کرلوں، ووٹ کو عزت دینے میں ہی ملک کی عافیت ہے، ووٹ کی عزت سے سب ادارے اپنی جگہ پر آ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ حق پر ہیں تو کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، ہم سندھ،، خیبرپختونخوااور بلوچستان میں بھی جائیں گے، سندھ کے عوام صوبائی حکومت سے تنگ آئے ہوئے ہیں، سندھی عوام بہت مجبور ہیں، ان کو دلاسہ دینا ہے، سندھ میں نہ تو پینے کا پانی ہے اور نہ ہی کوئی اسکول اور کالج، مجھے کئی دفعہ بہت تکلیف ہوئی ہے کہ سندھ میں لوگ کیسے زندگی گزارتے ہیں، اگر خدانخواستہ مجھے سزا دی گئی تو جیل کی دیواروں کے پیچھے سے بھی کردار ادا کرتا رہوں گا، ڈرنے کی کوئی بات نہیں جو ڈر گیا وہ مر گیا۔

نواز شریف نے کہا کہ ہمیں حکومت نہیں کرنے دی گئی، ہمارے خلاف سازشیں کی گئیں، جنہوں نے 60ملین ڈالر کمیشن کھایا اور این آئی سی ایل میں اربوں روپے کھائے وہ کہاں ہیں انصاف کی تلاش میں لوگوں کے بال سفید ہو گئے ہیں۔