عمران خان نے خواجہ آصف کی نااہلی سے پہلے ہی وکٹ گر انے کا دعوی کیا چیف جسٹس نوٹس لیں ‘ رانا ثناء اللہ خان

عمران نے ایک دن پہلے ہی کہا تھا کہ ن لیگ کی بڑی وکٹ گرنے والی ہے‘ عمران خان کو طلب کر کے باقاعدہ انکوائری ہونی چاہیے‘ خواجہ آصف کی اہلیت سے متعلق درخواست کا فیصلہ سننے والے بنچ کے سربراہ جسٹس اطہر من اللہ کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں، وہ جمہوریت کے حامی ہیں، ان کے فیصلے کو متنازع بنایا جا رہا ہے‘ تحریک انصاف اور عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے گماشتے بنے ہوئے ہیں‘میڈیا سے گفتگو

جمعہ اپریل 22:48

عمران خان نے خواجہ آصف کی نااہلی سے پہلے ہی وکٹ گر انے کا دعوی کیا چیف ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے خواجہ آصف کی نااہلی سے پہلے ہی وکٹ گر انے کا دعوی کیا چیف جسٹس آف پاکستان اس کا نوٹس لیں اور تحقیقات کرو ائے ‘ عمران نے ایک دن پہلے ہی کہا تھا کہ ن لیگ کی بڑی وکٹ گرنے والی ہے‘ عمران خان کو طلب کر کے باقاعدہ انکوائری ہونی چاہیے‘ خواجہ آصف کی اہلیت سے متعلق درخواست کا فیصلہ سننے والے بنچ کے سربراہ جسٹس اطہر من اللہ کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں، وہ جمہوریت کے حامی ہیں، ان کے فیصلے کو متنازع بنایا جا رہا ہے‘ تحریک انصاف اور عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے گماشتے بنے ہوئے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان صاحب نے پہلے کہا کہ بڑی وکٹ گرنے والی ہے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ خواجہ آصف صاحب کا فیصلہ ہمیں پتا تھا۔

(جاری ہے)

اس سے عدلیہ کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔ کل کے فیصلے کو جورنگ دیا جارہا ہے اس پر چیف جسٹس کو نوٹس لینا چاہیے، پی ٹی آئی یہ تاثر دے رہی ہے کہ عمران خان کو دو روز پہلے پتہ چل گیا تھا کہ ایک بہت بڑی وکٹ گر رہی ہے۔

رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ اس ردعمل پر پھر یہ نہ کہا جائے کہ (ن)لیگ عدلیہ مخالف بات کرتی ہے اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے چیف جسٹس تحقیقات کروائیں، تحریک انصاف اور عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے گماشتے بنے ہوئے ہیں، تحریک انصاف کے لوگ اپنے حلقوں میں یہ بات کرتے ہیں کہ ہمارے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے ہوگئے ہیں، اس کا منصف پاکستان کو بھی نوٹس لینا چاہیے، پی ٹی آئی آئندہ انتخابات میں ایک ہی طرح کامیابی ہوسکتی ہے کہ(ن)لیگ کو ٹیکنیکل بنیادوں پر انتخابات سے دور رکھا جائے۔