حکومت کا بجٹ میں فلم انڈسٹری کیلئےزبردست مالی پیکج کا اعلان

ڈرامہ،فلم سازی کےسامان کی درآمد پرکسٹم ڈیوٹی3 فیصد،سیلزٹیکس میں5 فیصد چھوٹ،فلم اورڈرامہ کےفروغ کیلئےریوالونگ فنڈ جبکہ مستحق فنکاروں کیلئےمالی امداد کااعلان کردیاگیا۔بجٹ تقریر

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ اپریل 19:55

اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔27 اپریل 2018ء) : وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے آئندہ مالی سال 2018-19ء کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے، بجٹ کا کل حجم 5ہزار932ارب 50کروڑ رکھا گیا ہے۔ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر میں بتایا کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری جوکہ60 کی دہائی میں دنیا کی تیسری بڑی انڈسٹری تھی۔ حکومت اس کے لیے ایک مالی پیکیج کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔

اس پیکیج کا مقصد فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے سازگار ماحول اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اورپاکستانی کلچر کو فروغ دینا ہے۔

(جاری ہے)

اس پیکیج کے تحت ڈرامہ، فلم سازی اور سینما کے سامان کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح کم کرکے 3 فیصد اور سیلز ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کیا جا رہا ہے۔۔فلم اور ڈرامہ کے فروغ کیلئے ریوالونگ فنڈ قائم کیا جا رہا ہے جس سے فلم انڈسٹری اور مستحق فنکاروں کو مالی امداد دی جائے گی۔

اس کے علاوہ فلم کے پراجیکٹس پر سرمایہ کاری کرنے والے افراد اور کمپنیوں کیلئے 5 سال تک انکم ٹیکس پر 50 فیصد چھوٹ دی جا رہی ہے۔ پاکستان میں بننے والی غیر ملکی فلموں پر عائد انکم ٹیکس پر 50 فیصد چھوٹ دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فلم پالیسی کی مزید تفصیلات کچھ دنوں میں وزیراطلاعات مریم اورنگزیب پیش کریں گی۔