حکومت کے آخری سال میں حکمران پارٹی سے دور بھاگتے ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف میں عوام روزانہ شمولیت اختیار کررہے ہیں،پرویز خٹک

جمعہ اپریل 23:39

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ عموما ًعوام حکومت کے آخری سال میں حکمران پارٹی سے دور بھاگتے ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف میں عوام روزانہ شمولیت اختیار کررہے ہیں خیبر پختونخوا میں روایت ہے کہ کوئی بھی پارٹی دوبارہ اقتدار میں نہیں آئی ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ اقتدار میں آکر صوبے کی تاریخ بد لے گی ۔

صوبے کے روایتی سیاستدانوں نے عوام کو کبھی روٹی ،کپڑا،مکان کبھی مذہب اور کبھی پختون ولی کے نام پر دھوکہ دیاہے لیکن اب صوبے کے عوام ان سیاستدانوں کے جعلی نعروں پر دھوکہ نہیں کھائیں گے کیونکہ عوام نے باربار ان کو آزمایا ہے، ان کرپٹ سیاستدانوں نے ہمیشہ عوام کو دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا ۔

(جاری ہے)

تباہ حال ادارے ،فرسودہ نظام ،کرپٹ مافیا پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار سنبھالتے وقت ملے تھے اس لئے اقتدار میں آتے ہی سب سے پہلے اداروں کو ٹھیک کرنے کاکام شروع کیا آج صوبے کے تمام ادارے مکمل خودمختار اور سیاسی مداخلت سے پاک ہیں۔

وہ صوابی کے علاقے زروبی میں شمولیتی جلسے سے خطاب کررہے تھے اس موقع پرجمعیت علمائے اسلام کے ڈسٹرکٹ ممبر یوسف اسلام عرف بابو، ویلج چئیرمین توحید امین ، نائب چیئرمین خان عالم ، تحصیل کونسلر ندیم خان اور جنرل کونسلر اخلاق احمد نے اپنے خاندانو ں اور سینکڑوں کارکنان سمیت پاکستان تحریک میں شمولیت کا اعلان کیا ۔وزیراعلی نے انکو پاکستان تحریک انصاف کی ٹوپیاں پہناکر خوش آمدید کہا اور شامل ہونے والوں کو یقین دلایا کہان کا فیصلہ بہترین ثابت ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف صرف صوبے میں نہیں بلکہ مرکز میں بھی حکومت بنائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ میں پچھلے 36 سالوں سے سیاست کا حصہ رہا ہوں لیکن آج تک عمران خان جیسا دیانت دار لیڈ ر نہیں دیکھا ۔انہوں نے کہا کہ جب اوپر لیڈر شپ ایماندار ہو تو نیچے بھی لوگ ایمانداری سے کا م کر تے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ خیبر پختونخوا حکومت نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ایمرجنسی بنیادوں پر کام کیا اور آج یہ دونوں شعبے ملک کے دیگر صوبوں سے کارکردگی کے لحاظ سے کافی آگے ہیں پہلے ہسپتالوں کی یہ حالت تھی کہ پورے صوبے میں صرف 3500 ڈاکٹرز تعینات تھے جبکہ موجودہ حکومت نے پچھلے پانچ سال کے قلیل عرصے میں ریکارڈ 4500 ڈاکٹرز بھر تی کرکے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی پور ی کردی اسکے علاوہ صحت انصاف کارڈ کے ذریعے غریبوں کو صحت سہولیات فراہم کی ہیں ۔

اسی طرح تعلیم کے شعبے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے سکولوں میں سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے ۔سکولوں اور ہسپتالوں میں عملے کی حاضری یقینی بنائی ہے 57000 ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کرکے سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کردی ہے پرائمری سکولوں پر 35ارب روپے خرچ کرکے معیاری تعلیم کو یقینی بنایا ہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے شعبے میں آج خیبر پختون خوا تمام صوبوں سے آگے ہے جسکا اعتراف کئی ملکی اور غیر ملکی سروے رپورٹ میں بھی کیا جاچکا ہے ۔

وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ پولیس کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت پاک کرانا پاکستان تحریک انصاف کا کارنامہ ہے سیاسی مداخلت سے پولیس کی کارکردگی صفر تھی اب پولیس مکمل طور پر غیر سیاسی ہے اور یہی وجہ کہ آج وہ ایک پروفیشنل فورس بن چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں دیوانی مقدمات کا جلدازجلد فیصلہ کرنے کے لئے 108 سالہ پرانے قانون میں ترمیم کی گئی جو بہت جلد اسمبلی سے پاس کرکے صوبے میں نافذالعمل ہوگا جسکے ذریعے لوگوںکو نسل درنسل منتقل ہوتے مقدمات سے چھٹکارہ مل جائیگا اور ایک سال کے اندر دیوانی مقدمات نمٹائے جائینگے ۔

اس موقع پر سپیکرخیبر پختون خوا اسد قیصر نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اپنے دور اقتدار میں اسلام کے لئے کچھ نہیں کیا پاکستان تحریک انصاف حکومت نے سود کے خلاف قانون پاس کرنے کے علاوہ سکولوں میں ناظرہ وترجمہ قرآن لازمی قرادیاہے آئمہ مساجد کے لئے تنخواہ اور صوبے کے جامع مساجد کو سولرائز کرکے عملی طورپر اسلامی اقدامات اٹھائے ہیں۔