قصور میں نوجوان کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کے مقدمہ میں نامزد ایس ایچ اوو کانسٹیبل کی عبوری ضمانتیں مسترد

جمعہ اپریل 23:43

لاہور۔27 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے قصور میں مدثر نامی لڑکے کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کے مقدمے میں نامزد ایس ایچ او طارق بشیر چیمہ اور کانسٹیبل محمد اشرف کی عبوری ضمانتیں مسترد کر دیں، دونوں ملزمان ضمانت خارج ہونے پر فرار ہو گئے ،،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوارالحق نے کیس کی سماعت کی،، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عبدالصمد نے کہا کہ ملزمان نے مدثر نامی لڑکے کو جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا اور جعلی ایف آئی آر درج کر کے مدثر کے اہل خانہ کو ہراساں کرتے رہے، انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے قانون کو ہاتھ میں لیا اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوئے، انہوں نے کہا کہ مقدمے میں نامزد ایس ایچ او طارق بشیر چیمہ اور کانسٹیبل محمد اشرف کے خلاف پہلے بھی جعلی پولیس مقابلوں کے مقدمات درج ہیں، جے آئی ٹی نے دونوں ملزمان کو گناہگار قرار دے رکھا ہے، انہوں نے بتایا کہ مدثر نامی لڑکے کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کے الزام میں تھانہ صدر قصور کے ایس ایچ او یونس ڈوگر اور انسپکٹر سی آئی اے قصور ریاض عباس ضمانت پر ہیں ان کی ضمانت مسترد کی جائے، ملزمان کیوکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مدثر کے اہل خانہ اس کیس میں کاروائی نہیں کرنا چاہتے لہذا مقدمے میں نامزد ایس ایچ او طارق بشیر چیمہ اور کانسٹیبل محمد اشرف کی عبوری ضمانتیں منظور کی جائیں، عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ایس ایچ او طارق بشیر چیمہ اور کانسٹیبل محمد اشرف کی عبوری ضمانتیں مسترد کر دیں، عدالت نے دو ملزمان ایس ایچ او یونس ڈوگر اور انسپکٹر سی آئی اے قصور ریاض عباس کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت دس مئی تک ملتوی کردی۔