پُر امن اور مکمل ہڑ تال کر نے پر عوام ، تاجر ، ٹرانسپورٹرز مبار کباد کے مستحق ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن

ہڑتال کا مقصد الیکٹرک اور اس کا تحفظ کر نے والوں ‘کراچی کو پانی سے محروم کر نے والوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانا تھا،پریس کانفرنس

جمعہ اپریل 23:25

پُر امن اور مکمل ہڑ تال کر نے پر عوام ، تاجر ، ٹرانسپورٹرز مبار کباد ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام ،تاجر و صنعتکار ،ٹرانسپورٹرز و دیگر طبقات اور جماعت اسلامی کے کارکنان و ذمہ داران خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے کے الیکٹرک کی اذیت ناک لوڈ شیڈنگ اور شہر میں پانی کی قلت کے خلاف شہر بھر میں پُر امن اور رضاکارانہ شٹر ڈائون ہڑتال کو مکمل طور پر کامیاب بنایا ، جماعت اسلامی کی پُر امن اور رضاکارانہ ہڑتال کا مقصد الیکٹرک اور اس کا تحفظ کر نے والے حکمرانوں اور کراچی کو پانی سے محروم کر نے والوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانا تھا ۔

جماعت اسلامی نے پُرامن ہڑتال کر کے کراچی میں ہو نے والی پُر تشدد ہڑتالوں کے بر عکس ہڑتال کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ،،کے الیکٹرک کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے جس کے باعث گیس کی مکمل فراہمی کے باوجود شہری لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں ، وزیر اعظم نے عوام کے بجائے کے الیکٹرک کا مسئلہ حل کیا ،،جماعت اسلامی کی کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کے خلاف تحریک جاری رکھے گی ، پانی کی عدم فراہمی کے خلاف واٹر بورڈ پر تاریخی دھرنا دیا جائے گا ۔

(جاری ہے)

پولیس نے مختلف مقامات اور علاقوں سے جماعت اسلامی کے احتجاج کر نے واے پُر امن کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے انہیں فی الفور رہا کیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہو ں نے جمعہ کے روز ادارہ نورحق میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، سکریٹری کراچی عبد الوہاب ، ڈپٹی سکریٹری سیف الدین ایڈوکیٹ ، ڈپٹی سکریٹری اطلاعات اقبال چوہدری اور دیگر بھی موجود تھے ۔

حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ کے الیکٹرک کی ظالمانہ لوڈ شیڈنگ اور شہریوں کو پانی کی عدم فراہمی کے خلاف شہری پریشانی کا شکار ہیں ، واٹر بورڈ کا ادارہ صوبائی حکومت کے ماتحت ہے اس ادارے میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں ادارہ کرپشن کی نذر ہوگیا اور شہریوں کو پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم کردیا گیا ہے ، کراچی میں بہت سی آبادیاں ایسی ہیں جن میں مہینوں پا نی نہیں آتا اور بعض علاقوں میں تو کئی کئی سالوں سے پانی نہیں آیا ہے ۔

واٹر بورڈ کی لائنوں سے تو پانی نہیں ملتا ٹینکرز کے ذریعے مہنگے داموں مل جا تا ہے ۔ جماعت اسلامی نے شہریوں کے حقوق کے لیے مستقل جدوجہد کی ہے اور ہر آئینی ، جمہوری اور قانونی طریقہ اختیار کیا ہے ۔۔پانی اور بجلی کی فراہمی عوام کا دیرینہ مسئلہ ہے ، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریا ت فراہم کی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم پاکستان سے پوچھنا چاہتاہوں کہ انہوں نے نیپرا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک کو فرنس آئل پر پلانٹ چلانے کا پابند کیو ںنہیں کیا ۔

وزیر اعظم پاکستان کراچی تشریف لائے اور صرف ایک ہی ایجنڈے ’’کے الیکٹرک کو تحفظ دینے ‘‘ پر کام کیا اور شہریوں کے مسائل حل نہیں کیے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی حقوق تحریک جاری رکھے گی اور واٹر بورڈ کے ہیڈ آفس پر بھی تاریخی دھرنا دیا جائے گا جس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا ۔علاوہ ازیں کے الیکٹرک کی ظالمانہ لوڈ شیڈنگ اور پانی کی عدم فراہمی کے حوالے سے شہر بھر میں متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرے اور دھرنے بھی دیے جن میں صدر گلشن اقبال ،گلستان ِ جوہر ،لیاقت آباد ،ناظم آباد ،نارتھ ناظم آباد ، ملیر ، کالابورڈ ،لانڈھی ، شاہراہ فیصل ، لسبیلہ ، اورنگی ٹاؤن ، بنارس چوک ، لی مارکیٹ ، ایمپریس مارکیٹ ، لیاری اور دیگر مقامات پر دھرنے دیے گئے۔

مرکزی مظاہرہ جامع مسجد نعمان لسبیلہ چوک پر کیا گیا جس سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی نے خطاب کیا ۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ آج جماعت اسلامی نے پُر امن احتجاج کر کے نئی تاریخ رقم کی ہے اور کراچی کے شہریوں نے شدید گرمی کے باعث کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران کے الیکٹرک کی سرپرستی کررہے ہیں جس کے باعث کے الیکٹرک نے اعلان کیا ہے کہ گیس کی فراہمی میں کمی کے باعث پلانٹس این ایل جی سے چلانے پر بجلی کی قیمتوں میں 3گنا اضافہ کیا جائے گا ۔

ہم کسی صورت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ قبول نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک عوامی تحریک ہے ، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو بلا تعطل اور سستی بجلی اور پانی کی فراہمی کو ممکن بنائے ۔