بجٹ 2018-19‘ زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے ہر قسم کی کھادوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 3 فیصد تک کم کرنے کی تجویز

جمعہ اپریل 23:44

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) حکومت نے زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے ہر قسم کی کھادوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 3 فیصد تک کم کرنے کی تجویز دی ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یوریاکھاد پر 5 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس لاگو ہے جبکہ ڈے اے پی کھاد پرسیلز ٹیکس کی شرح 100 روپے فی بوری ہے۔

(جاری ہے)

دیگر کھادیں جن میں این پی، این پی کے، ایس ایس پی اور سی اے این شامل ہیں، اُن پر بھی فکسڈ شرح سے سیلز ٹیکس عائد ہے۔ زرعی شعبہ میں گروتھ کو فروغ دینے کیلئے ہر قسم کی تمام کھادوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 3فیصد تک کم کرنے کی تجویز ہے۔مزید براں کھاد کے کارخانوں کو فیڈ سٹاک کے طور پر گیس کی فراہمی پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح کو 10 فیصد سے کم کرکی5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فرٹیلائزر مینوفیکچرز کی جانب سے فیڈ سٹاک کے طور پر استعمال کی جانے والی ایل این جی کی امپورٹ پر عائد 5 فیصد سیلز ٹیکس کو مکمل ختم کرنے کی تجویز ہے۔

متعلقہ عنوان :