بجٹ اجلاس ،ْپی ٹی آئی اور حکومتی ارکان میں دھکم پیل ،ْتلخ کلامی

مراد سعید وزیر مملکت عابد شیر علی کو مارنے کے لیے بھی لپکے ،ْ اپوزیشن نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں اپوزیشن نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا گھیراؤ کیا ،ْ حفاظت کے لیے حکومتی ارکان بھی سامنے آگئے

جمعہ اپریل 23:45

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران حکومتی اور پی ٹی آئی ارکان میں تلخ کلامی ہوئی اور مراد سعید وزیر مملکت عابد شیر علی کو مارنے کے لیے بھی لپکے۔ جمعہ کو حکومت کی جانب سے سال 19-2018 کے لیے وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔۔بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے وزیراعظم کے مشیر مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر بنا کر بجٹ پیش کروانے پر احتجاج کیا اجلاس سے واک آؤٹ کا اعلان کیا۔

(جاری ہے)

اپوزیشن کے بائیکاٹ کے کچھ ہی دیر بعد تحریک انصاف کے ارکان نے اسمبلی اجلاس میں اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا اور بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں۔اپوزیشن نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا گھیراؤ کیا جن کی حفاظت کے لیے حکومتی ارکان بھی سامنے آگئے ، اسی دوران ہنگامہ آرائی میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما عابد شیر علی اور تحریک انصاف کے رکن اسمبلی امجد نیازی کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوگئی جس پر مراد سعید بھی شدید غصے میں آ گئے۔مراد سعید جذباتی انداز میں عابد شیر علی کی طرف لپکنے لگے تاہم پی ٹی آئی اراکین نے بڑی مشکل سے انہیں دوسری جانب جانے سے روکا جس کے بعد شہریار آفریدی انہیں اجلاس سے باہر لے گئے۔