دو ماہ کی مہمان حکومت کو پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا حکومت نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا ‘سراج الحق

حکومت نے بجٹ پیش کرنے کے لیے ایسے شخص کو وفاقی وزیر کا عہدہ دیا جو پارلیمنٹ کا رکن تھا نہ عوامی نمائندہ ، اس بجٹ کو غیر آئینی اور غیر منتخب حکومت کا بجٹ قرار دیا جاسکتا ہے‘امیر جماعت اسلامی

جمعہ اپریل 23:45

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ دو ماہ کی مہمان حکومت کو پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا حکومت نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا اور آنے والی حکومت کا آئینی حق چھینا ۔ حکومت نے بجٹ پیش کرنے کے لیے ایسے شخص کو وفاقی وزیر کا عہدہ دیا جو پارلیمنٹ کا رکن تھا نہ عوامی نمائندہ ۔

اس بجٹ کو غیر آئینی اور غیر منتخب حکومت کا بجٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ۔

(جاری ہے)

ڈالر 118 روپے تک پہنچ گیاہے اس کی قیمت میں کمی ، مہنگائی اور غربت کم کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ اسی طرح صوبوں کو ان کا جائز حق دینے کی کوئی منصوبہ بندی نظرآتی ہے نہ بجٹ میں اس طرف کوئی توجہ دی گئی ہے ۔

بجٹ میں 23 سو ارب روپے کے مزید قرضے لینے کی ضرورت پڑے گی اور قریباً 18 سو ارب روپے سابقہ قرضوں کی ادائیگی کی مد میں جائیں گے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مجموعی طور پر یہ بجٹ معاشی زبوں حالی کی تصویر ہے اور قرضوں پر ملک چلایا جارہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ خسارے کے اس بجٹ سے معاشی ترقی اور خوشحالی کے حکومتی دعوئوں کا پول کھل گیاہے ۔